نصیرالدین ہمایوں کی زبان سے امیر علی شیر نوائی کا ذکر

عُثمانی امیرالبحر اور سفرنامہ نگار سیدی علی رئیس ‘کاتبی’ اپنے تُرکی سفرنامے «مِرآت الممالک» (سالِ تألیف: ۱۵۵۷ء) میں لکھتے ہیں کہ ایک روز اُنہوں نے تیموری پادشاہ نصیرالدین ہمایوں کو ایک تُرکی غزل سنائی، جو پادشاہ کو اِتنی پسند آئی کہ اُس نے ‘کاتبی’ کو ‘علی‌شیرِ ثانی’ کا نام دے دیا۔ وہ لکھتے ہیں:

"پادشاه چون غزل فقیر را شنید التفات بی‌اندازه فرمود و به انواع احسان مستغرقم گردانید و این کم‌ترین را «علی‌شیر ثانی» نامید.
فقیر عرض کرد ما را چه یاراست که علی‌شیر ثانی شویم. مراحم پادشاهی افزون باد. اگر می‌توانستیم خوشه‌چین علی‌شیر هم باشیم راضی می‌بودیم.
پادشاه محبت بسیار فرمود و گفت اگر یک سال بدین قرار تمرین کنی طائفهٔ جغتای میر علی‌شیر را فراموش خواهد کرد.”
(فارسی مترجم: علی گنجه‌لی)

"پادشاہ نے جب فقیر کی غزل سُنی تو بے حد و بے اندازہ اِلتفات فرمایا اور طرح طرح کے احسانات میں مجھ کو غوطہ ور کیا اور اِس کم ترین کو «علی‌شیرِ ثانی» نام دیا۔
فقیر نے عرض کی: ہم کو کیا جسارت و یارا کہ ہم علی‌شیرِ ثانی ہو جائیں۔ پادشاہ کا لُطف و عنایت افزُوں ہو! اگر ہم علی‌شیر کے خوشہ چیں بھی ہو پاتے تو راضی رہتے۔
پادشاہ نے بِسیار محبّت فرمائی اور کہا: اگر ایک سال تک اِسی طرح مَشق کرو تو قومِ چَغَتائی میر علی‌شیر کو فراموش کر دے گی۔”
(اردو مترجم: حسّان خان)

× اختصار کے لیے میں نے تُرکی غزل حذف کر دی ہے۔

Advertisements

میں خلائق کا پادشاہ ہوں، لیکن تمہارا غلام ہوں – ظہیرالدین محمد بابر

(رباعی)
سېن گُل‌سېن و مېن حقیر بُلبُل‌دورمېن
سېن شُعله‌سېن، اول شُعله‌غه مېن کول‌دورمېن
نسبت یۉق‌تور دېب اجتناب ایله‌مه‌ کیم
شه‌مېن اېل‌گه، ولې سنگه قول‌دورمېن
(ظهیرالدین محمد بابر)
تم گُل ہو، اور میں حقیر بُلبُل ہوں۔۔۔ تم شُعلہ ہو اور میں اُس شُعلے کی خاکِستر (راکھ) ہوں۔۔۔ یہ کہہ کر [مجھ سے] اجتناب مت کرو کہ "[مجھ میں اور اُس میں] کوئی نسبت نہیں ہے”۔۔۔ میں خلائق کا پادشاہ ہوں، لیکن تمہارا غُلام ہوں۔

Sen gulsen-u men haqir bulbuldurmen,
Sen shu’lasen, ul shu’lag‘’a men kuldurmen.
Nisbat yo’qtur deb ijtinob aylamakim,
Shahmen elga, vale sanga quldurmen.


اسلامی عہد کے ہند میں فارسی زبان

"جن مسلمان حملہ آوروں نے بھارت پر حملہ کر کے اُس پر سالہا سال تک حکومت کی تھی، وہ نہ عرب تھے اور نہ ایرانی، وہ ترک تھے۔ سکندر کے حملے سے پہلے کسی زمانے میں ایران کی سلطنت بہت وسیع تھی۔ بھارت کا سندھ بھی اُسی میں تھا۔ ایشیا میں وہ وسطی ایشیا تک پھیلا ہوا تھا اور یورپ میں بھی بحرِ ایجہ تک اُس کی سرحد تھی۔ لہٰذا جس طرح انگریزی آج بین الاقوامی زبان ہے، اُسی طرح اُس وقت فارسی تھی۔ ترک اپنی ترکی زبان کے بجائے اُسی بین الاقوامی زبان کے پیروکار تھے، جس طرح آج کانگریس کے رہنما انگریزی کے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ محمود غزنوی کی تعریف میں فردوسی نے جو شاہنامہ لکھا تھا، وہ ترکی کے بجائے فارسی ہی میں لکھا گیا تھا۔ لہٰذا ترکی زبان جہاں تھی، وہیں رہ گئی، اور فارسی حکومت کی زبان بن گئی۔ سبب یہ ہے کہ غیر ترقی یافتہ ترکی زبان حکومت کی زبان بننے کے لائق ویسے ہی نہیں سمجھی گئی جیسے آج ہندی نہیں سمجھی جاتی۔

اس طریق سے فارسی مسلم حکومت کی زبان بن گئی، خواہ دلی کے بادشاہ ترک تھے یا پٹھان یا پھر مغل۔ اس لیے سرکاری نوکریاں پانے کے لیے ہندوؤں میں کایستھوں نے پہلے پہل فارسی پڑھی اور سکندر لودی کے زمانے میں تقریباً ۱۵۲۰ء کے آس پاس وہ شاہی دفتروں میں داخل ہونے لگے۔ پھر تو کسی نے یہ بھی نہیں سوچا کہ ملک کے لوگ کون سی زبان بولتے ہیں۔ ہاں، مال گزاری کے کاغذات اور دستور العمل ہندی ہی میں رہے۔ یہ صورتِ حال اکبری عہدِ حکومت کے نصفِ اول تک رہی۔ بعد ازاں، ڈاکٹر بلاکمین کے مطابق، اکبر کے وزیرِ مالیات ٹوڈرمل کے حکم سے یہ دستور العمل بھی فارسی میں کر دیے گئے۔ اس طرح ملک کی زبان اور حکومت کی زبان کے مابین کوئی تعلق نہیں رہا۔ پھر تو مغلوں کی عملداری جہاں کہیں رہی، وہاں فارسی ہی کا بول بالا ہو گیا۔”

(اَمبِکا پرَساد واجپئی کے مضمون ‘سَرَسْوَتی کے آوِربھاو کے سمے ہندی کی اَوَسْتھا‘ سے اقتباس اور ترجمہ)