اِطفائیہ

میری تجویز ہے کہ زبانِ اردو میں انگریزی اصطلاح ‘فائر ڈیپارٹمنٹ’ کی بجائے ‘اطفائیہ/itfaaiyya’ استعمال کرنا چاہیے۔ یہ لفظ عربی کے مادّے ‘ط ف ء’ سے مشتق ہے جس کے بابِ اَفعَلَ کے مصدر ‘اِطفاء’ کا مفہوم ‘بجھانا، گُل کرنا’ ہے۔ لہٰذا ‘اطفائیہ’ کا مطلب ‘آگ بجھانے والا ادارہ’ ہو گا۔

یہ لفظ ‘اطفاء’ اردو لغت کا جز ہے:
http://dsalsrv02.uchicago.edu/cgi-bin/philologic/getobject.pl?c.0:1:2946.platts
http://www.urduencyclopedia.org/urdudictionary/index.php?title=اطفا

اطلاعاً عرض ہے کہ یہ مادّہ قرآنی عربی میں بھی استعمال ہوا ہے:
يُرِيدُونَ أَن يُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ
وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کا نور اپنی پھونکوں سے بجھا دیں۔۔۔ (سورۂ توبہ، آیت ۳۲)

اسی طرح ہم ‘فائر فائٹر’ کی جگہ پر ‘اطفائی’ اور ‘فائر بریگیڈ’ کی جگہ پر ‘اطفائی دستہ’ استعمال کر سکتے ہیں۔

اردو میں ہم پہلے ہی بہت سے اداروں اور محکموں کے اسی نمونے پر مبنی نام استعمال کرتے آئے ہیں مثلاً بحریہ، فضائیہ، عدلیہ وغیرہ۔

یہ اصطلاح سب سے پہلے عثمانی سلطنت میں ترکی زبان کے لیے وضع کی گئی تھی، پھر وہاں سے یہ اصطلاح بلادِ عرب، ایران اور افغانستان تک پہنچ کر وہاں کی زبانوں میں رائج ہو گئی۔ فی زمانہ یہ اصطلاح ترکی، عرب ممالک اور افغانستان میں مستعمل ہے۔ ایران میں بھی یہی اصطلاح اولاً استعمال ہوتی تھی اور ابھی بھی مطبوعات میں نظر آتی ہے لیکن پہلوی دور میں اس کی بجائے سرکاری طور پر ‘ادارۂ/سازمانِ آتش نشانی’ (یعنی آگ بٹھانے والا ادارہ) کی اصطلاح رائج کر دی گئی تھی۔

پس نوشت: اردو شاعر میر درد نے لفظِ ‘اطفاء’ کو ایک شعر میں یوں استعمال کیا ہے:
اطفائے نارِ عشق نہ ہو آبِ اشک سے
یہ آگ وہ نہیں جسے پانی بجھا سکے

Advertisements