"میر سید علی ہمدانی زبانِ فارسی کے مبلغ تھے”

"میر سید علی ہمدانی کی بے نظیر شخصیت اور پُرثروت تالیفات زمانوں سے اہلِ علم و دانش کی توجہ کو جلب کرتی آ رہی ہیں۔” یہ بات آج شہرِ دوشنبہ میں عالموں اور دانشمندوں کی موجودگی میں منعقد ہونے والے موتمر ‘میر سید علی ہمدانی کا عالمی تمدن میں مقام’ کے دوران کہی گئی۔
مذکورہ موتمر بزرگ مفکر میر سید علی ہمدانی کے سات سو سالہ جشن کے افتخار میں وزارتِ ثقافتِ تاجکستان کی تحقیق گاہِ علمیِ و تدقیقاتیِ ثقافت و اطلاعات کی کوششوں سے منعقد ہوا۔ موتمر کے آغاز میں تحقیق گاہ کے مدیر شریف کامل زادہ نے کہا کہ اس موتمر کا ہدف مشرق زمین کے مفکر میر سید علی ہمدانی کی غنی میراث سے آشنائی ہے۔
اکادمیِ علومِ جمہوریۂ تاجکستان کے نائب معتمدِ اعلیٰ میرزا مُلّا احمد اوف نے کہا: "حکومتِ جمہوریۂ تاجکستان کی قرارداد سے رواں سال میر سید علی ہمدانی کی سات سو سالگی کی تجلیل مشرق زمین کے اس مفکرِ بزرگ کے احوال و اثار کو عمیق تر پہچاننے کے لیے بڑی اہمیت رکھتی ہے۔ نیز، عظیم شاعر و عارف کے افکار و خیالات کی تحقیق و آموزش کے نتیجے میں ہم میر سید علی ہمدانی کی تالیفات کی انسان دوستانہ اور اخلاقی جہات پر بیشتر توجہ کر کے اُن کے بہترین خیالات کو مردم تک پہنچا رہے ہیں، کیونکہ یہ عمل نوجوان نسل کی اخلاقی تربیت کے لیے بہت اہم ہے۔”
موتمر میں مشہور تاجک دانشمندوں میرزا مُلّا احمد، عسکر علی رجب اوف، جمال الدین سعیدزادہ اور دیگروں نے ‘میر سید علی ہمدانی کے انسان دوستانہ خیالات’، ‘میر سید علی ہمدانی اور اُن کے زمانے کی ثقافت’، ‘میر سید علی ہمدانی اور اقبالِ لاہوری’ جیسے موضوعات پر اور اِن بزرگ مفکر کے زمانے اور تالیفات کے دیگر پہلوؤں پر گفتگو کی۔ کہا گیا کہ میر سید علی ہمدانی کی تعلیمات قیمتی افکار کی حامل ہیں اور یہ جمہوریت، پاکیزگیِ اخلاق، تشکیلِ شخصیتِ انسان، اور دیگر خوب فضائل کی راہ میں بڑا کردار ادا کریں گی۔
میر سید علی ہمدانی ایک معروف ملّی، ثقافتی اور عرفانی شخصیت ہیں۔ وہ ایران کے شہر ہمدان میں متولد ہوئے، کشمیر میں شہرت مند ہوئے، اور حالیہ تاجکستان میں واقع خطۂ ختلان میں مدفون ہیں۔ یعنی اُنہوں نے تین قلمروؤں کو باہم متصل کیا ہے۔ یہ بزرگ مفکر خطۂ کشمیر میں مبلغِ اسلام ہونے کے ہمراہ، وہاں فارسی زبان اور تاجکوں کے تمدن کے ترغیب گروں میں سے ایک تھے۔
موتمر کے اختتام پر میر سید علی ہمدانی سے مربوط تصنیفات و ادبیات کی فہرست کی رونمائی کی گئی، اور اِن بزرگ مفکر کی تالیفات نمائش کے لیے پیش کی گئیں۔

خبر کا ماخذ: تاجک اخبار ‘خاور’
خبر کی تاریخ: ۴ اگست ۲۰۱۵ء
خبرنگار: مرضیہ سعیدزادہ
مترجم: حسان ضیاء خان

× موتمر = کانفرنس


تاجکستان میں میر سید علی ہمدانی کی یاد منائی گئی

تاجکستان کے ضلعِ جلال الدین رومی کے ثقافتی و تفریحی باغ میں مشرق کے بزرگ عارف، ادیب، شاعر اور مفکر میر سید علی ہمدانی کی سات سو سالگی کی مناسبت سے ایک ثقافتی محفل کا انعقاد ہوا۔ ضلع کی نائب رئیس مَیرمبی غفورزادہ نے سید علی ہمدانی – کہ جنہوں نے اپنی زندگی کا بڑا حصہ شہرِ کولاب میں گذارا تھا – کی زندگی اور اُن کی گراں قدر تالیفات کے بارے میں اہلِ محفل کو معلومات دیں۔ بعد ازاں، اہلِ ثقافت اور طالب علموں نے اُن کے منتخب اشعار کی قرائت کی اور فنکاروں نے اُن کے اشعار پر مبنی اپنے ترانوں سے حاضرینِ محفل کی خاطر کو شاد کیا۔ ہم یاد دہانی کرتے چلیں، کہ رواں سال تاجکستان کی کوششوں اور اقوامِ متحدہ کے ثقافتی ادارے یونیسکو کی قرارداد سے میر سید علی ہمدانی کا سات سو سالہ جشن پورے جہاں میں منایا جائے گا۔

خبر کا منبع: تاجکستان کا سرکاری نشریہ ‘جمہوریت’
خبر کی تاریخ: ۱۹ فروری ۲۰۱۵ء

* تاجکستان کے صوبۂ ختلان کے ‘جلال الدین رومی’ نامی اس ضلعے کا پرانا نام کالخازآباد تھا، لیکن ۲۰۰۷ء میں عظیم شاعر مولانا جلال الدین رومی کے آٹھ سو سالہ جشن کے موقع پر اس ضلعے کا نام مولانا رومی کے نام پر رکھ دیا گیا ہے۔