بکله‌نن – نجیب فاضل قېساکۆره‌ک

(بکله‌نن)
نه خاستا بکله‌ر صاباحې،
نه تازه اؤلۆیۆ مزار.
نه ده شئیطان، بیر گۆناهې،
سنی بکله‌دیڲیم قادار.

گئچتی، ایسته‌مم گلمه‌نی،
یۏق‌لوغون‌دا بولدوم سنی؛
بېراق وهمیم‌ده گؤلگه‌نی،
گلمه، آرتېق نه‌یه یارار؟
(نجیب فاضل قېساکۆره‌ک)
۱۹۳۷ء

(مُنتَظَر)
جتنا زیادہ میں نے تمہارا انتظار کیا ہے، نہ بیمار صُبح کا انتظار کرتا ہے، نہ قبر تازہ مُردہ کا کرتی ہے، اور نہ شیطان کسی گُناہ کا کرتا ہے۔
[وقت] گُذر گیا، مجھے تمہاری آمد کی خواہش نہیں ہے۔۔۔ میں نے تم کو تمہاری غیر موجودگی میں پایا [ہے]۔۔۔ میرے تصوُّر میں اپنا سایہ چھوڑ دو۔۔۔ مت آؤ، اب مزید کیا فائدہ ہے؟

مُتَبادِل ترجمہ:
نہ بیمار صُبح کا انتظار کرتا ہے،
نہ قبر تازہ مُردہ کا۔
اور نہ شیطان کسی گُناہ کا،
جس قدر میں نے تمہارا انتظار کیا ہے۔

گُذر گیا، میں تمہاری آمد کی خواہش نہیں کرتا،
مَیں نے تمہاری غیر موجودگی میں تم کو پایا؛
میرے تصوُّر میں اپنا سایہ چھوڑ دو،
مت آؤ، اب مزید کیا فائدہ ہے؟

(Beklenen)
Ne hasta bekler sabahı,
Ne taze ölüyü mezar.
Ne de şeytan, bir günahı,
Seni beklediğim kadar.

Geçti istemem gelmeni,
Yokluğunda buldum seni;
Bırak vehmimde gölgeni,
Gelme, artık neye yarar?
(Necip Fazıl Kısakürek)

× مندرجۂ بالا نظم آٹھ ہِجوں کے ہِجائی وزن میں ہے۔
× نظم کا اردو عُنوان «مُنتَظَر» ہے، یعنی وہ شخص یا چیز جس کا انتظار کیا جائے۔

Advertisements

وطن – میرزا تورسون‌زاده

(وطن)
بهار آمد، ز عُمرم باز یک سالِ دِگر بِگْذشت،
تمامِ زندگی آهسته از پیشِ نظر بِگْذشت.
به مثلِ گوشت و ناخُن من همیشه با وطن بودم،
اگرچه نصفِ عُمرِ بهترینم در سفر بِگْذشت.
وطن، در هر کجا آمد به سر فارم هوایِ تو،
من از آن سویِ اُقیانوس بِشْنیدم صدایِ تو.
اگرچه در میان طوفان و موجِ بحرها بودند،
ولی آمد به گوشِ من صدایِ رودهایِ تو.
به وقتِ بازگشتن چون رسیدم بر حُدودت من،
ز سر تا پا شدم مفتون و شیدایِ نمودت من.
نِشستم در زمینِ تو، پریدیم در هوایِ تو
به آوازِ درودت من، به آهنگِ سُرُودت من.
اگرچه بارها افتادم از یار و دیارم دور،
به سیّاحی مرا کردند گرچه دوستان مشهور،
ولی من در همه جا، در همه کُنج و کَنارِ دهر
همیشه با وطن بودم، همیشه با وطن مسرور.
(میرزا تورسون‌زاده)
۱۹۶۵ء

بہار آ گئی، دوبارہ میری عُمر میں سے ایک سالِ دیگر گُذر گیا۔۔۔ میری کُل زندگی آہستہ آہستہ [میری] نظر کے پیش سے گُذر گئی۔
اگرچہ میری عُمر کا بہترین نِصف سفر میں گُذر گیا، لیکن میں ہمیشہ اُسی طرح وطن کے ساتھ تھا، جس طرح گوشت و ناخُن ایک ساتھ ہوتے ہیں۔
اے وطن! ہر جگہ میرے سر کی جانب تمہاری خوشگوار ہوا آئی، میں نے اوقیانوس کے اُس طرف سے تمہاری صدا سُنی۔
اگرچہ درمیان میں طوفان اور بحروں کی امواج تھیں، لیکن میرے کان میں تمہارے دریاؤں کی صدا آئی۔
واپَس آتے وقت جب میں تمہاری حُدود پر پہنچا، میں سر سے پا تک تمہاری صُورت کا مفتون و شیدا ہو گیا۔
تمہارے سلام کی آواز کے ساتھ اور تمہارے نغمے کے آہنگ کے ساتھ میں تمہاری زمین پر بیٹھا اور تمہاری ہوا میں اُڑا۔
اگرچہ میں بارہا اپنے یار و دیار سے دُور ہو گیا، اور اگرچہ میرے دوستوں نے مجھے سیّاحی میں مشہور کر دیا،
لیکن میں ہر جگہ، اور دُنیا کے ہر گوشہ و کنار میں ہمیشہ وطن کے ساتھ تھا، اور ہمیشہ وطن کے ساتھ مسرور تھا۔

وطن، در هر کجا آمد به سر فارم هوایِ تو،

لفظِ «فارَم» صرف ماوراءالنہری فارسی میں استعمال ہوتا ہے، اور اِس کا معنی «خوش گوار و دل کش و دل نشین» ہے۔


فتح‌نامهٔ ابنِ زیاد برایِ یزید – محمد علی افراشته

(فتح‌نامهٔ ابنِ زیاد برایِ یزید)

(قبلهٔ عالَم سلامت باد)
قبلهٔ عالَم سلامت باد، مطلب شد تمام
شد حُسین ابنِ علی با خاندانش قتلِ عام
کُشته شد در کربلا عباس و عون و جعفرش
تشنه‌لب بر خاک و خون اُفتاد حتّیٰ اصغرش
تا نمانَد در جهان از آلِ پیغمبر نشان
عصرِ عاشورا، زدیم آتش به چادرهایشان
ای یزید آسوده‌خاطر باش، دادیم انتشار
در میانِ مردُمان از اهلِ هر شهر و دیار
کاین جماعت خارجی بودند یکسر مرد و زن
مُنکرِ اسلام، یاغی، ماجراجو، بی‌وطن
حُکمِ قتلِ آلِ پیغمبر، به امضایِ شُرَیح
کار را بسیار آسان کرد فتوایِ شُرَیح
کرد هر کس بر علیهِ پادشاهِ دین قیام
واجب‌القتل است و باید کُشت او را، والسّلام
کس نفهمید این جماعت زادهٔ پیغمبرند
مردُمِ کِشور گمان کردند این‌ها کافرند
بسکه تبلیغات با پُول و طلایِ بی‌حساب
شد، که افکارِ عُمومی شد به نفعِ آن‌جناب
در زمانه پادشاهِ دین کسی غیر از تو نیست
این که طِبقِ امرِ تو شد کُشته مردِ اجنبی‌ست
گر کسی شد با خبر از کار و از کردارِ ما
خواست بردارَد به عالَم پرده از اسرارِ ما
چند تن مأمور دُنبالِ سرش بِگْذاشتیم
با هزاران حیله او را از میان برداشتیم
در سرِ راهِ تو دیگر نیست مانِع، ای یزید
بعد از این نبْوَد کسی حق را مُدافِع، ای یزید
برق‌آسا، یافت کارِ دُشمنانت خاتِمه
از دمِ شمشیر بِگْذشتند نسلِ فاطمه
پایهٔ تختِ تو مُحکم شد ز آسیبِ زمان
پرچمِ اقبالِ تو بِگْذشت از هفت آسمان
چون نمانْد از نسلِ پیغمبر نشانی بر زمین
پادشاهِ کِشورِ اسلام هستی بعد از این
در عدالت‌پروری پُر شد جهان از نامِ تو
چشمِ ما اکنون بُوَد بر خلعت و انعامِ تو
ما به راهِ دولتِ تو جان‌فشانی کرده‌ایم
دُشمنانت را همه نابود و فانی کرده‌ایم
در اِزایِ این فداکاری و این خدمت به ما
مرحمت کن مال و جاه و منصب و خلعت به ما
تا که در راهِ تو افزون‌تر فداکاری کنیم
بر زمین خونِ هزاران بی‌گُنه جاری کنیم
تا قیامت، تیغِ خون‌افشانِ تو بُرّنده باد
بندهٔ درگاهِ والاجاهِ تو: ابنِ زیاد
(محمد علی افراشته)
مُحرّم، ۱۳۳۰هش/۱۹۵۱ء

ترجمہ:
قبلۂ عالَم سلامت رہیں! قضیہ تمام ہو گیا۔ حُسین ابنِ علی اپنے خاندان کے ہمراہ قتلِ عام ہو گئے۔ کربلا میں اُن کے عبّاس و عَون و جعفر قتل ہو گئے۔ حتّیٰ اُن کا اصغر بھی تشنہ لب خاک و خوں پر غلطاں ہو گیا۔ ہم نے بہ وقتِ عصرِ عاشورا آلِ پیغمبر کے خیموں کو آتش لگا دی تاکہ جہان میں آلِ پیغمبر کا نشان باقی نہ رہے۔ اے یزید، آسودہ خاطر رہو۔ ہم نے ہر شہر و ہر دیار کے مردُموں میں نشر کر دیا کہ اِس گروہ کے جُملہ مرد و زن خارجی، مُنکرِ اسلام، سرکَش، فتنہ جُو اور بے وطن تھے۔ آلِ پیغمبر کا قتل قاضی شُرَیح کے اِمضاء (دستخط) سے ہوا۔ قاضی شُرَیح کے فتوے نے کام کو بِسیار آسان کر دیا۔ جس بھی شخص نے پادشاہِ دیں کے خلاف قِیام کیا، وہ واجب القتل ہے اور اُس کو قتل کر دینا چاہیے، والسّلام!۔ کسی نے فہم نہ کیا کہ یہ گروہ زادۂ پیغمبر ہے۔ مردُمِ مُلک نے گُمان کیا کہ یہ افراد کافر ہیں۔ بے حساب پیسے اور زر کے ساتھ اِتنی زیادہ تبلیغات کی گئیں کہ افکارِ عُمومی عالی جناب (یزید) کے حق میں مُنعَطِف ہو گئے۔ زمانے میں تمہارے بجز کوئی پادشاہِ دیں نہیں ہے۔ جو شخص تمہارے فرمان کے مُطابق قتل ہوا ہے، مردِ اجنَبی ہے۔ اگر کوئی شخص ہمارے کار و عمل سے آگاہ ہوا، یا اگر اُس نے دُنیا کے پیش میں ہمارے اَسرار سے پردہ اُٹھانا چاہا، تو ہم نے چند مأمورین کو اُس کے عقب میں چھوڑ دیا اور ہزاروں حیلوں کے ساتھ اُس کو درمیان سے دُور کر دیا۔ اے یزید، تمہاری راہ میں اب مزید کوئی مانِع و سدّ نہیں ہے۔ اے یزید، اب اِس کے بعد سے کوئی شخص حق کا مُدافِع نہیں ہے۔ تمہارے دُشمنوں کا کام برق کی مانند خاتمہ پا گیا۔ نسلِ فاطمہ کو تہِ تیغ گُذار دیا گیا۔ تمہارے تخت کا پایہ مُحکم ہو گیا اور حالا اُس کو آسیبِ زمانہ سے خطر نہیں ہے۔ تمہاری اقبال مندی کا پرچم ہفت آسمانوں سے بالا گُذر گیا۔ چونکہ زمین پر نسلِ پیغمبر میں سے کوئی نشان باقی نہ رہا تو اب بعد از ایں تم مُلکِ اسلام کے پادشاہ ہو۔ عدالت پروَری میں دُنیا تمہارے نام سے پُر ہو گئی۔ حالا ہماری نظریں تمہاری خلعت و انعام پر ہیں۔ ہم نے تمہاری سلطنت کی راہ میں جاں فِشانی کی ہے۔ ہم نے تمہارے تمام دُشمنوں کو نابود و فانی کر دیا ہے۔ اِس فداکاری و خِدمت کے عِوض میں ہم کو مال و جاہ و منصب و خِلعت عطا کرو۔ تاکہ ہم تمہاری راہ میں مزید فداکاری کریں، اور زمین پر ہزاروں بے گُناہوں کا خُون رواں کریں۔
تمہاری تیغِ خون افشاں تا قیامت بُرّاں رہے!
تمہاری درگاہِ والاجاہ کا بندہ: ابنِ زیاد۔


عبدالرحمٰن جامی کی سِتائش میں ایک نظم – اُزبک شاعر ذاکرجان حبیبی

(جامی حقی‌ده قۉشیق)
سلام ای مُحترم، علّامهٔ اهلِ بشر، جامی،
اولوغ اُستاذ و یعنی صاحبِ فضل و هُنر، جامی.
کتاب و داستان بیر قنچه نظم و نثر ایله یازدینگ،
سُخن میدانی‌ده جَولان قیلیب تاپدینگ ظفر، جامی.
«بهارستان» و «هفت اورنگ» بیله دیوانِ اشعارینگ
رِسالینگ موسیقی‌ده اېنگ شرَف‌لی مُعتبر، جامی.
آلورلر بهره اۉز اخلاصی‌گه لایق جهان اهلی،
محبّت بیرله قیلسه هر کتابینگ‌گه نظر، جامی.
یاقیم‌لی سۉزلرینگ حکمت‌لی، راحت‌بخش و جان‌پرور،
اۉقیل‌گه‌ی بزم و صُحبت‌لرده سېن‌دن کۉپ اثر، جامی.
نه خوش علم اَوجی‌نینگ روشن قویاشی پرتَو‌افشان‌سن،
نوایی خِذمتینگ‌ده توردیلر باغلب کمر، جامی.
عدالت اۉلکه‌سی‌ده کیم حقیقت نوری‌نی تۉسگه‌ی
تیلیم عاجز، حبیبی، سۉزنی قیلدیم مُختصر، جامی.
(ذاکرجان حبیبی)
۱۹۶۴ء

(جامی کے بارے میں نغمہ)
السّلام اے مُحترم، علّامۂ اہلِ بشر، جامی!۔۔۔ اے عالی اُستاد، یعنی صاحبِ فضل و ہُنر، جامی!
اے جامی! آپ نے نظم و نثر کے ساتھ کئی کتابیں اور داستانیں لِکھیں۔۔۔ آپ نے میدانِ سُخن میں جَولاں کر کے فتح پا لی۔
اے جامی! «بہارستان» و «ہفت اورنگ» کے ہمراہ آپ کا دیوانِ اشعار، اور موسیقی کے بارے میں آپ کا رسالہ باشرَف ترین اور مُعتبر ترین ہے۔
اے جامی! لائق اہلِ جہاں محبّت کے ساتھ آپ کی جس بھی کتاب پر نظر کریں، اپنے اِخلاص کے بقَدر بہرہ حاصل کرتے ہیں۔
اے جامی! آپ کے دل پذیر سُخن پُرحکمت، راحت بخش اور جاں پروَر ہیں۔۔۔ بزم اور صُحبتوں میں آپ کی تألیفات کی بِسیار خوانِش و قرائت ہو گی۔
اے جامی! آپ اَوجِ علم کے کس قدر روشن و پرتَو افشاں خورشید ہیں۔۔۔ امیر علی‌شیر نوائی کمر باندھ کر آپ کی خِدمت میں اِیستادہ ہوئے۔
مُلکِ عدالت میں کون نورِ حقیقت کو مسدود کرے گا؟۔۔۔ اے حبیبی! میری زبان عاجز ہے۔۔۔ اے جامی! میں نے سُخن کو مُختصَر کر دیا۔

(Jomiy Haqida Qo’shiq)
Salom ey Muhtaram, allomai ahli bashar, Jomiy,
Ulug’ ustozu ya’ni sohibi fazlu hunar, Jomiy.
Kitobu doston bir qancha nazmu nasr ila yozding,
Suxan maydonida javlon qilib topding zafar, Jomiy.
«Bahoriston»u, «Haft Avrang» bila devoni ash’oring
Risoling musiqida eng sharafli mo’tabar, Jomiy.
Olurlar bahra o’z ixlosiga loyiq jahon ahli,
Muhabbat birla qilsa har kitobingga nazar, Jomiy.
Yoqimli so’zlaring hikmatli, rohatbaxshu jonparvar,
O’qilgay bazmu suhbatlarda sendan ko’p asar, Jomiy.
Naxush ilm avjining ravshan quyoshi partavafshonsan,
Navoiy xizmatingda turdilar bog’lab kamar, Jomiy.
Adolat o’lkasida kim haqiqat nurini to’sgay,
Tilim ojiz, Habibiy, so’zni qildim muxtasar, Jomiy.
(Zokirjon Habibiy)
1964


مِرّیخ یولدوزی‌گه – عبدالرئوف فطرت بُخارایی

(مِرّیخ یولدوزی‌گه)
گۉزل یولدوز، یېریمیزنینگ اېنگ قدرلی توقغانی،
نېگه بیزدن قاچیب مونچه اوزاق‌لرگه توشیب‌سن؟
تووغانینگ‌گه نېچون سیره گپورمس‌دن توریب‌سن،
سۉیله، یولدوز، حالینگ نه‌دیر، نېچوک تاپدینگ دُنیانی؟
بیزنینگ یېرده بۉلیب تورگن توبن‌لیک‌لر، خۉر‌لیک‌لر،
سۉیله، یولدوز، سېنینگ دغی قوچاغینگ‌ده بۉلورمی؟

بارمی سېن‌ده بیزیم کبی انسان‌لر،
ایککی یوزلی ایش‌بوزرلر، شیطان‌لر.
اۉرتاق قانین قانمه‌ی ایچکن زولوک‌لر،
قرداش اېتین تۉیمه‌ی یېگن قاپلان‌لر؟
بارمی سېن‌ده اۉک‌سوز یۉقسول‌نینگ قانین
گورونگله‌شیب، چاغیر کبی ایچکن‌لر؟
بارمی سېن‌ده بوتون دُنیا توزوگین
اۉز قاپچیغین تۉلدیرغه‌لی بوزغن‌لر؟
بارمی سېن‌ده بیر اۉلکه‌نی یاندیریب،
اۉز قازانین قاینتغووچی خاقان‌لر؟
بارمی سېن‌ده قارین-قورساق یۉلی‌ده
اېلین، یورتین، بارین-یۉغین ساتقان‌لر؟
(عبدالرئوف فطرت بُخارایی)
۱۹۲۰ء

(بہ سیّارۂ مِرّیخ)
اے ستارۂ زیبا! اے ہماری زمین کے قیمتی ترین رِشتے دار!
تم کس لیے ہم سے گُریزاں ہو کر اِس قدر دور چلے گئے ہو؟
اپنے رِشتے دار سے کس لیے تم ہرگز گفتگو نہیں کرتے؟
بتاؤ، اے ستارے، تمہارا حال کیسا ہے؟ تم نے دُنیا کو کیسا پایا؟
ہماری زمین میں ہوتے رہنے والی پستیاں اور ذِلّتیں
بتاؤ، اے سیّارے، کیا تمہاری آغوش میں بھی ہوتی ہیں؟

کیا تم میں [بھی] ہیں ہمارے جیسے انسانان؟
دو چہروں والے، کام بگاڑنے والے، شیطانان؟
قانع ہوئے بغیر رفیق کا خون پینے والی جوَنکیں؟
سیر ہوئے بغیر برادر کا گوشت کھانے والے تیندوے؟
کیا تم میں بھی ہیں یتیم ناداروں کے خون کو
ہنستے کھیلتے شراب کی طرح پینے والے؟
کیا تم میں [بھی] ہیں تمام دُنیا کے قاعدہ و قانون کو
اپنی بوری بھرنے کے لیے توڑنے والے؟
کیا تم میں [بھی] ہیں کسی مُلک کو جلا کر
اپنی دیگ کو اُبالنے والے خاقانان؟
کیا تم میں [بھی] ہیں شِکم و معدہ کی راہ میں
اپنے مُردم کو، اپنے وطن کو، اپنی ہر چیز کو فروخت کر دینے والے؟

(Mirrix yulduziga)
Go’zal yulduz, yerimizning eng qadrli tuqg’oni,
Nega bizdan qochib muncha uzoqlarga tushibsan?
Tuvg’oningga nechun sira gapurmasdan turibsan,
So’yla, yulduz, holing nadir, nechuk topding dunyoni?
Bizning yerda bo’lib turgan tubanliklar, xo’rliklar,
So’yla, yulduz, sening dag’i quchog’ingda bo’lurmi?

Bormi senda bizim kabi insonlar,
Ikki yuzli ishbuzarlar, shaytonlar,
O’rtoq qonin qonmay ichkan zuluklar,
Qardosh etin qo’ymay yegan qoplonlar?
Bormi senda o’ksuz yo’qsulning qonin
Gurunglashib, chog’ir kabi ichkanlar?
Bormi senda butun dunyo tuzugin
O’z qopchig’in to’ldirg’ali buzg’anlar?
Bormi senda bir o’lkani yondirib,
O’z qozonin qaynatg’uvchi xoqonlar.
Bormi senda qorin-qursoq yo’lida
Elin, yurtin, borin-yo’g’in sotqonlar?

× مندرجۂ بالا نظم ہِجائی وزن میں ہے۔


آنامېن دوعاسې/میری مادر کی دُعا – مروارید دلبازی

(آنامېن دوعاسې)
آنام دوعا ائتدی:
آللاهېم منی
اؤلدۆرسن نه قېش‌ده،
نه یای‌دا اؤلدۆر.
هاواسې مۆلاییم بیر آی‌دا اؤلدۆر.
آنامېن سسی‌نی آللاه ائشیتدی
اۏنون بو دوعاسې درگاها یئتدی.
چمن چیچک‌لری، آغ یاسه‌من‌لر
بزه‌دی قبری‌نی اۏنون اۏ گۆن‌لر.

اؤلسم، آنام کیمی منی ده، آللاه!
سن نه قېش‌دا اؤلدۆر، نه یای‌دا اؤلدۆر.
گؤیۆ یاز گۆنش‌لی بیر آی‌دا اؤلدۆر!
منی سۏن منزیله آپاران‌لارې
نه ایستی تنتیتسین، نه شاختا، نه قار.
ائی پروه‌ردیگار!
(مروارید دلبازی)

(میری مادر کی دُعا)
میری مادر نے دُعا کی:
اے میرے اللہ
اگر تم مجھ کو مارنا تو نہ سردیوں میں،
اور نہ گرمیوں میں مارنا۔
مجھ کو اِک مُلائم موسم والے ماہ میں مارنا۔
اللہ نے میری مادر کی صدا سُن لی
اُس کی یہ دُعا درگاہِ [خداوندی] تک پہنچ گئی۔
چمن کے گُلوں نے، سفید یاسمَنوں نے
اُس کی قبر کو اُن ایّام میں سجا دیا۔

اگر میں مر جاؤں تو میری مادر کی طرح مجھ کو بھی، اے اللہ!
تم نہ سردیوں میں مارنا، نہ گرمیوں میں مارنا۔
مجھ کو اِک ایسے ماہ میں مارنا، جس میں آسمان پر بہاری خورشید ہو۔
مجھ کو آخری منزل کی جانب لے جانے والوں کو
نہ گرمی تنگ و بیزار کرے، نہ مُنجَمِد کُن موسم، اور نہ برف۔
اے پروَردِگار!

(Anamın Duası)
Anam dua etdi:
Allahım məni
Öldürsən nə qışda,
Nə yayda öldür.
Havası mülayim bir ayda öldür.
Anamın səsini Allah eşitdi
Onun bu duası dərgaha yetdi.
Çəmən çiçəkləri, ağ yasəmənlər
Bəzədi qəbrini onun o günlər.

Ölsəm, anam kimi məni də, Allah!
Sən nə qışda öldür, nə yayda öldür.
Göyü yaz günəşli bir ayda öldür!
Məni son mənzilə aparanları
Nə isti təntitsin, nə şaxta, nə qar.
Ey Pərvərdigar!
(Mirvarid Dilbazi)

× شاعرہ کا تعلق جمہوریۂ آذربائجان سے تھا۔
× مندرجۂ بالا نظم ہِجائی وزن میں ہے۔


تا به کَی؟ – صدرالدین عینی

(تا به کَی؟)
تا به کَی آشُفتهٔ زُلفِ پریشان است دل؟
تا به کَی خون‌گشتهٔ لعلِ سُخن‌دان است دل؟
تا به کَی قُربانِ بی‌رحمیِ جانان است دل؟
تا به کَی ویرانِ استبدادِ هجران است دل؟
تا به کَی از غُصّه گریان همچو نَیسان است چشم؟
تا به کَی از داغ سوزان همچو نَیران است دل؟
تا به کَی از بی‌کسی هم‌راهِ فریاد است لب؟
تا به کَی از بی‌رفیقی یارِ افغان است دل؟
تا به کَی در خاک و خونِ هجر غلطان است تن؟
تا به کَی در سوز و داغِ عشق بِریان است دل؟
تا به کَی از خارِ راهِ یار افگار است پای؟
تا به کَی از جور و ظُلمِ دوست نالان است دل؟
تا به کَی خم بر سرِ زانویِ مأیوسی‌ست سر؟
تا به کَی خون از هُجومِ داغِ حِرمان است دل؟
وقتِ آن آمد، که در سعی و عمل هِمّت کنیم.
در سرِ آسودگیِ خویش خود خدمت کنیم.
(صدرالدین عینی)
۱۹۲۴ء

ترجمہ:
کب تک دل زُلفِ پریشاں کا آشُفتہ ہے؟
کب تک دل لعل جیسے لبِ سُخن داں کے باعث خوں گشتہ ہے؟
کب تک دل جاناں کی بے رحمی کا قُربان ہے؟
کب تک دل ہجراں کے استبداد کے سبب ویران ہے؟
کب تک چشم غم کی وجہ سے ابرِ نَیساں کی طرح گِریاں ہے؟
کب تک دل داغ کی وجہ سے آتشوں کی طرح سوزاں ہے؟
کب تک لب بے کسی کے باعث فریاد کا ہمراہ ہے؟
کب تک دل بے رفیقی کے باعث نالہ و فغاں کا یار ہے؟
کب تک تن ہجر کی خاک و خوں میں غلطاں ہے؟
کب تک دل عشق کے سوز و داغ میں بِریاں ہے؟
کب تک پاؤں راہِ یار کے خار سے مجروح ہے؟
کب تک دل دوست کے ظُلم و سِتم سے نالاں ہے؟
کب تک سر مایوسی کے زانو پر خَم ہے؟
کب تک دل داغِ نااُمیدی کے حملے سے خون ہے؟
[اب] اِس [چیز] کا وقت آ گیا ہے کہ ہم کوشش و عمل کے لیے اِرادہ و جِدّ و جہد کریں
[اور] اپنی آسودگی کے لیے ہم خود فعالیت و کوشش کریں۔