محمد فضولی بغدادی کا ذکر بالآخر ایک پاکستانی اردو اخبار میں

جب میں نے انٹرنیٹ پر فارسی و تُرکی ادبیات کی تبلیغ شروع نہیں کی تھی، اُس وقت تک پاکستان میں محمد فضولی بغدادی بالکل گُمنام شاعر تھے، حالانکہ وہ قومِ اتراک کے ایک عظیم ترین شاعر ہیں، اور اُن کا آذربائجان و تُرکیہ میں (نیز، تُرکستان اور عراقی و شامی تُرکوں میں بھی) وہی رُتبہ ہے جو فارسی گویوں میں جنابِ حافظ شیرازی کا ہے، یعنی تُرکی سرا شاعروں میں وہ معروف ترین ہیں، اور کلاسیکی تُرکی شاعری کا ہر قاری اُن کی شاعری سے آگاہی رکھتا ہے، اور اُن کی کئی ابیات اکثر تُرکی گویوں کو ازبر ہیں۔ علاوہ بریں، اُن کی فارسی شاعری بھی فصاحت و بلاغت اور شعری استعداد کے لِحاظ سے فُصَحائے عجم کی شاعری سے کم تر نہیں ہے۔ اِن چیزوں کے مدِّ نظر، میری اوّل روز سے کوشش رہی ہے کہ میں پاکستان میں جنابِ محمد فضولی بغدادی کے نام و آثار کی ترویج کرتا رہوں اور اِس مقصد کے لیے میں اُن کے فارسی و تُرکی اشعار کے ترجمے کرتا آیا ہوں۔ ارادہ تو یہ ہے کہ اگر مشیتِ الہٰی اجازت دے، اور مجھے فُرصت و موقع ملے، تو میں اُن کے کُل فارسی و تُرکی دواوین کا ترجمہ کروں گا۔ لیکن میں اِس وقت تک بھی اُن کی پانچ سو کے قریب فارسی و تُرکی ابیات کا ترجمہ کر چکا ہوں، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ دیکھنا میرے لیے باعثِ شادمانی ہے کہ انٹرنیٹ پر پاکستانیوں میں محمد فضولی بغدادی سے آشنائی کا آغاز ہو گیا ہے، اور اِمروز کئی مُحِبّانِ شعرِ فارسی اُن کے نام سے واقف ہیں، اور اُن کی شاعری سے محظوظ ہوتے ہیں۔ محمد فضولی بغدادی میرے پسندیدہ ترین تُرکی ادیب ہیں، اِس لیے مردُم کو اُن سے مُتعارف کرانا اپنی ادبی ذمّہ داری سمجھتا ہوں۔

اِمروز، بروزِ جمُعہ، سید شاہ زمان شمسی کی ایک تحریر «محسوسات و کیفیت کیا ہے؟» کے نام سے ایک اردو اخبار «وائس آف پاکستان» [ایک اردو اخبار کا نام انگریزی میں!] میں شائع ہوئی، جس میں اُنہوں نے فارسی نعتیہ شاعری پر چند کلمات لِکھے ہیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اُس میں محمد فضولی بغدادی کی بھی نعتیہ ابیات، اُن کے نام کے ذکر کے ساتھ اور میرے ترجمے کی معیت میں، درج تھیں۔ میں جانتا ہوں کہ، بے شک، یہ اردو تحریر محض چند انگُشت شُمار قاریوں کی نگاہوں ہی سے گُذری ہو گی، لیکن کیا یہ مُوَفّقیت و کامیابی کم ہے کہ فضولی بغدادی کا نام بالآخر ایک اردو اخبار کی بھی زینت بن گیا؟ ہرگز نہیں!

آرزو ہے کہ ایک روز جنابِ فضولی کا نام اِس مُلک بھی اُسی طرح شُہرت سے ہمکنار ہو گا جس طرح مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے دیگر دیاروں میں مشہور و معروف ہے۔

سید شاہ زمان شمسی کی تحریر کا ربط
اخباری صفحے کا ربط

پس نوشت: یہی تحریر «صحافت»، «ہجوم»، اور «طالبِ نظر» میں بھی شائع ہوئی تھی۔

Advertisements

غیر از درت پناه نداریم، یا نبی – محمد فضولی بغدادی

غیر از درت پناه نداریم، یا نبی
جز تو اُمیدگاه نداریم، یا نبی
تا بُرده‌ایم سویِ تو ره جز طریقِ تو
رُویی به هیچ راه نداریم، یا نبی
بهرِ ظُهورِ لُطفِ عمیمت وسیله‌ای
غیر از فغان و آه نداریم، یا نبی
روزِ جزا تویی چو شفیعِ گُناهِ ما
اندیشه از گُناه نداریم، یا نبی
در امْر و نهْی هرچه به ما حُکم کرده‌ای
حق است و اِشتِباه نداریم، یا نبی
بر لُطفِ توست تکیه نه بر طاعتی که ما
داریم گاه و گاه نداریم، یا نبی
مُلکِ وُجود مُنتظِم از فیضِ عدلِ توست
غیر از تو پادشاه نداریم، یا نبی
بسته‌ست جُرم‌هایِ فضولی زبانِ ما
غیر از تو عُذرخواه نداریم، یا نبی
(محمد فضولی بغدادی)

اے نبی! ہم آپ کے در کے بجز کوئی پناہ نہیں رکھتے۔۔۔ اے نبی! ہم آپ کے بجز کوئی اُمیدگاہ نہیں رکھتے۔
اے نبی! جب سے ہم آپ کی جانب عازمِ راہ ہوئے ہیں، ہمارا رُخ آپ کی راہ کے بجز کسی بھی راہ کی جانب نہیں ہے۔
اے نبی! آپ کے لُطفِ عام کے ظُہور کے لیے ہم آہ و فغاں کے بجز کوئی وسیلہ نہیں رکھتے۔
اے نبی! چونکہ روزِ جزا ہمارے گُناہ کے شفیع آپ ہیں، ہم کو گُناہ کی فِکر نہیں ہے۔
اے نبی! امْر و نهی میں آپ نے جو کچھ بھی ہم کو حُکم کیا ہے، وہ حق ہے اور ہم کو [اِس بارے میں] شُبہہ نہیں ہے۔
اے نبی! ہمیں آپ کے لُطف پر تکیہ و اعتماد ہے، [اپنی اُس ناقِص] اطاعت و بندگی پر نہیں، جو گاہے ہوتی ہے اور گاہے نہیں۔
اے نبی! مُلکِ وُجود آپ کے عدل کے فَیض سے انتظام یافتہ و ترتیب یافتہ ہے۔۔۔ ہم آپ کے بجز کوئی پادشاہ نہیں رکھتے۔
اے نبی! ‘فُضولی’ کے جُرموں نے ہماری زبان کو باندھ دیا ہے۔۔۔ ہم آپ کے بجز کوئی عُذرخواہ نہیں رکھتے۔


نعتِ حضرتِ رسول – ظهیرالدین محمد بابر

تیموری پادشاہ ظہیرالدین محمد بابُر نے نقشبندی صوفی شیخ خواجہ عُبیداللہ احرار کے «رسالۂ والدیّہ» کا فارسی سے تُرکی میں منظوم ترجمہ کیا تھا۔ مندرجۂ ذیل نعت اُسی تُرکی مثنوی سے مأخوذ ہے۔

یا حبیبِ عربیِ قُرَشی
غم و دردینگ منگا شادی و خوشی
چرخ‌نینگ گردشی مَیلینگ بیرله
باری خلق اۉلدی طُفیلینگ بیرله
انبیا خَیلی‌غه سروَر سېن‌سېن
جُملهٔ خلق‌غه رهبر سېن‌سېن
مېن بسی کاهل و یۉل اسرو ییراق
عُمر کۉپ قیسقه و یۉل اوزون‌راق
مېنِ گُمراه‌قه کۉرسات بیر یۉل
مېنی مقصودقه یېتکورگای اۉل
قۉیمه بابُرنی بو حِرمان بیرله
چاره قیل دردی‌غه درمان بیرله
(ظهیرالدین محمد بابر)

اے حبیبِ عرَبی و قُرَشی!۔۔۔ آپ کے [عشق میں] غم و درد میرے لیے شادمانی و خوشی ہے۔۔۔ چرخ کی گردش آپ کے مَیل و رغبت سے ہوتی ہے۔۔۔ تمام چیزیں آپ کے طُفیل خَلق ہوئی ہیں۔۔۔ گروہِ انبیا کے سروَر، اور جُملہ خَلق کے رہبر آپ ہیں۔۔۔ میں بِسیار کاہل ہوں، اور راہ خیلے دُور ہے۔۔۔ عُمر بِسیار کوتاہ ہے اور راہ طویل تر ہے۔۔۔ مجھ گُمراہ کو ایک ایسی راہ دِکھائیے جو مجھ کو مقصود تک لے جائے۔۔۔ بابُر کو اِس مایوسی و حِرمان میں مت چھوڑیے۔۔۔ اور درمان کے ساتھ اُس کے درد کا چارہ کیجیے۔


اوّلین تُرکی مثنوی ‘قوتادغو بیلیگ’ سے نعتِ رسول – یوسف خاص حاجِب بلاساغونی

(یالاواچ علیه‌السّلام اؤگدی‌سین آیور)
سئوۆگ ساوچې اېدتې باغېرساق ایدی
بۏدون‌دا تالوسې کیشی‌ده کئدی
یولا ائردی خلق‌قا قاراڭقو تۆنی
یاروق‌لوقې یادتې یاروتتې سنی
اۏقېچې اۏل ائردی بایات‌تېن ساڭا
سن اؤترۆ کؤنی یۏل‌قا کیردیڭ تۏڭا
آتاسېن آناسېن یولوغ قېلدې اۏل
تیله‌ک اۆممت ائردی آیو بئردی یۏل
کۆنۆن یئمه‌دی کؤر تۆنۆن یاتمادې
سنی قۏلدې رب‌دا آدېن قۏلمادې
سنی قۏلدې تۆن کۆن بو امگه‌ک بیله
آنې اؤگ سن ائمدی سئوینچین تیله
قاموغ قادغوسې ائردی اۆممت اۆچۆن
قوتولماق تیلر ائردی راحت اۆچۆن
آتادا آنادا باغېرساق بۏلوپ
تیلر ائردی توتچې بایات‌تېن قۏلوپ
بایات رحمتی ائردی خلقې اؤزه
قېلېنچې سیلیگ ائردی قېلقې تۆزه
تۆزۆن ائردی آلچاق قېلېنچې سیلیگ
اوووت‌لوغ باغېرساق آقې کئڭ الیگ
یاغېز یئر یاشېل کؤک‌ته ائردی کۆسۆش
آڭار بئردی تڭری آغېرلېق اۆکۆش
باشې ائردی اؤڭدۆن قاموغ باشچې‌قا
کئدین بۏلدې تامغا قاموغ ساوچې‌قا
کؤڭۆل بادېم ائمدی آنېڭ یۏلېڭا
سئویپ سؤزی توتتوم بۆتۆپ قاولېڭا
ایلاهی کۆده‌زگیل مئنیڭ کؤڭلۆمی
سئوۆگ ساوچې بیرله قۏپور قۏپغومې
قېیامت‌ته کؤرکیت تۏلون تئگ یۆزین
الیگ توتتاچې قېل ایلاهی اؤزین
(یوسف خاص حاجِب)

(پیغمبر علیہ السّلام کی مدح کہتا ہے)
[میرے] ربِّ رحیم و شفیق نے محبوب پیغمبر کو بھیجا [جو] خَلق میں مُنتخَب ترین اور انسانوں میں خوب ترین [ہیں]۔
وہ تاریک شب میں خَلق کے لیے [ایک] مشعل [کی مانند] تھے۔۔۔ اُنہوں نے اپنی روشنائی [اطراف میں] پھیلائی [اور] تم کو روشن کیا۔
وہ تمہارے لیے خدا کی طرف سے [بھیجے گئے] داعی تھے۔۔۔ تم اِس سائے میں راہِ راست میں داخل ہوئے، اے قہرَمانِ دِلیر!
اُنہوں نے اپنے پدر و مادر کو فدا کر دیا۔۔۔ [اُن کی واحد] آرزو اُمّت تھی، اُس کو اُنہوں نے راہ دِکھائی۔
دیکھو، بہ وقتِ روز اُنہوں نے طعام نہیں کھایا، بہ وقتِ شب وہ سوئے نہیں۔۔۔ رب سے اُنہوں نے [صِرف] تمہاری خواہش کی، دیگر [شَے کی] خواہش نہ کی۔ (یعنی صِرف اُمّت کے لیے دُعا کی۔)
شب و روز اِس [قدر] زحمت کے ساتھ اُنہوں نے [فقط] تمہاری خواہش کی (یعنی فقط اُمّت کی فکر کی اور اُس کے لیے دُعا کی)۔۔۔ حالا تم اُن کی مدح کرو اور اُن کی رِضا و شادمانی کی آرزو کرو۔
اُن کا تمام غم و اضطراب اُمّت کے لیے تھا (یعنی صِرف اُمّت کے لیے غم کھاتے تھے)۔۔۔ اور راحت کے لیے [اُمّت] کی نجات و خَلاصی کی آرزو کرتے تھے۔
وہ پدر و مادر سے بھی زیادہ مہربان و مُشفِق تھے۔۔۔ وہ خدا سے دائماً [اِس کی] اِلتماس اور خواہش کرتے تھے۔
وہ خَلق پر خدا کی ایک رحمت تھے۔۔۔ وہ پاک اَخلاق اور راست فِطرت تھے۔
وہ نجیب فطرت، نرم خُو، مُتَواضِع، اور پاک اَخلاق تھے۔۔۔ وہ باحیا، شفیق، سخی اور فراخ دست تھے۔
وہ سیاہی مائل زمین پر [بھی] عزیز تھے، اور آبی آسمان پر [بھی]۔۔۔ خدا نے اُن کو بِسیار قدر و قیمت و عِزّت دی تھی۔
وہ تمام رہبروں کے آگے رئیس تھے۔۔۔۔ بعدازاں وہ تمام رسولوں کے خاتَم ہو گئے۔
میں نے حالا اُن کی راہ سے دل باندھا۔۔۔ میں اُن کے [تمام] اقوال پر ایمان لایا اور میں نے [اُن سے] محبّت کرتے ہوئے اُن کے سُخنوں کو قبول کیا۔
اے میرے خدا! میرے دل کی نگہداری کرو۔۔۔ قیامت میں مجھ کو محبوب پیغمبر کی ہمراہی میں محشور کرو۔
قیامت میں اُن کا ماہِ تمام جیسا چہرہ دِکھاؤ!۔۔۔ [اور] اے میرے خدا! خود اُن کو [میرے لیے] شفیع بناؤ۔
× قہرَمانِ = ہِیرو

Sevüg savçı ıdtı bağırsak idi
bodunda talusı kişide kedi
Yula erdi halkka karaŋku tüni
yaruklukı yadtı yaruttı seni
Okıçı ol erdi bayattın saŋa
sen ötrü köni yolka kirdiŋ toŋa
Atasın anasın yuluğ kıldı ol
tilek ümmet erdi ayu berdi yol
Künün yemedi kör tünün yatmadı
seni koldı rabda adın kolmadı
Seni koldı tün kün bu emgek bile
anı ög sen emdi sevinçin tile
Kamuğ kadğusı erdi ümmet üçün
kutulmak tiler erdi râhat üçün
Atada anada bağırsak bolup
tiler erdi tutçı bayattın kolup
Bayat rahmeti erdi halkı öze
kılınçı silig erdi kılkı tüze
Tüzün erdi alçak kılınçı silig
uvutluğ bağırsak akı keŋ elig
Yağız yer yaşıl kökte erdi küsüş
aŋar berdi teŋri ağırlık üküş
Başı erdi öŋdün kamuğ başçıka
kedin boldı tamğa kamuğ savçıka
Köŋül badım emdi anıŋ yolıŋa
sevip sözi tuttum bütüp kavlıŋa
İlâhi küdezgil meniŋ köŋlümi
sevüg savçı birle kopur kopğumı
Kıyâmette körkit tolun teg yüzin
elig tuttaçı kıl ilâhi özin

× مندرجۂ بالا ابیات بحرِ مُتقارِب میں اور قدیم قاراخانی تُرکی میں ہیں۔
× «ڭ» کا تلفظ «نگ» ہے۔


فی مدح النبی صلی الله علیه وسلم – عزیز محمود هُدایی

(فی مدح النبی صلی الله علیه وسلم)
صلات ایله سلام اۏلسون رسوله
که اۏل‌دور ره‌نما اۏلان بو یۏلا
محمّد مُقتدایِ انبیادېر
محمّد ره‌نمایِ اولیادېر
محمّد سروَرِ جمعِ رُسُل‌دۆر
محمّد هادیِ خیرِ سُبُل‌دۆر
قامودان گرچه حق خۏشنود اۏلوب‌دور
مقام امّا اۏنا محمود اۏلوب‌دور
بویورموش‌دور آنېن شانېندا مولا
فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ اَوۡ اَدۡنٰى‌
شو ذاتېن که اۏلا مدّاحې رحمان
نه وجْهیله آنې مدْح ایده انسان
قُدومو عالَمینه اۏلدو رحمت
آنېنلا بیتدی بُنیانِ نُبُوّت
سلام آلینه اصحابېنا هر آن
قرین اۏلا داخی رِضوانِ رحمان
(عزیز محمود هُدایی)

ترجمہ:
حضرتِ رسول پر صلات و سلام ہو، کہ وہ اِس راہ کی جانب [ہمارے] رہنما ہیں۔
حضرتِ محمد انبیاء کے پیشوا ہیں۔۔۔ حضرتِ محمد اولیاء کے رہنما ہیں۔
حضرتِ محمد تمام رسولوں کے سروَر ہیں۔۔۔ حضرتِ محمد بہترین راہوں کی جانب ہادی ہیں۔
اگرچہ حق تعالیٰ تمام [انبیاء] سے خوشنود ہوا ہے، لیکن مقام حضرتِ محمّد کا محمود ہوا ہے۔ (یعنی خدا نے فقط حضرتِ محمد کو مقامِ محمود عطا کیا ہے۔)
مولا تعالیٰ نے اُن کی شان میں فرمایا ہے: "فَكَانَ قَابَ قَوۡسَيۡنِ اَوۡ اَدۡنٰى‌” (یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا)۔ (سورۂ نجم، آیت ۹)
جس ذات کا مدّاح [خدائے] رحمان [خود] ہو، اُس کی مدح [کوئی] انسان کس طرح کرے؟
اُن کی آمد عالَمین کے لیے رحمت بنی، [اور] اُس کے ذریعے نُبُوّت کی بُنیاد اختتام پذیر ہو گئی۔
اُن کی آل و اصحاب پر ہر لمحہ سلام ہو!۔۔۔ نیز، [خدائے] رحمان کی خوشنودی اُن سے [قریب] ہو!

(FÎ MEDHİ’N NEBÎ SALLALLÂHU ‘ALEYHİ VE SELLEM)
Salât ile selâm olsun resûle
Ki oldur rehnümâ olan bu yola
Muhammed muktedây-ı enbiyâdır
Muhammed rehnümây-ı evliyâdır
Muhammed server-i cem‘-i rusuldür
Muhammed hâdi-i hayr-ı sübüldür
Kamudan gerçi Hak hoşnûd olubdur
Makâm ammâ ana mahmûd olubdur
Buyurmuşdur anın şânında mevlâ
Fe kâne kâbe kavseyni ev ednâ
Şu zâtın ki ola meddâhı Rahmân
Ne vechile anı medh ide insân
Kudûmu ‘âlemîne oldu rahmet
Anınla bitdi bünyân-ı nübüvvet
Selâm âline ashâbına her ân
Karîn ola dahi rıdvân-ı Rahmân
(Azîz Mahmûd Hüdâyî)

مأخوذ از: مثنویِ نجات‌الغریق


قوسین چون نگویم ابرویِ مصطفیٰ را – نواب میر عثمان علی خان آصف‌جاه سابع

قوسین چون نگویم ابرویِ مصطفیٰ را
ما زاغ گفت ایزد آن چشمِ حق‌نما را
از طاعتِ الٰهی دیدم جمالِ احمد
وز حُبِّ مصطفایی دریافتم خدا را
هر کس که غوطه‌زن شد در قُلزُمِ محبت
دارم یقین که یابد آن دُرِّ بی‌بها را
ای مجمعِ کرامت از فیضِ تو چه دور است
شاها اگر نوازی درویشِ بی‌نوا را
گر آبرو تو خواهی ای دل به صِدقِ نیّت
در بحرِ حق فنا شو یابی دُرِ بقا را
جان را فدا نمایم بر روضهٔ مقدّس
گر آستانه‌بوسی گردد نصیب ما را
دریایِ فیضِ ساقی مُژده دهد به مستان
گیرید ساغرِ مَی یا ایُّها السُّکارا
ای خسروِ حسینان ای شاهِ نازنینان
روشن کن از تجلّی کاشانهٔ گدا را
ای تاج کج‌کُلاهان سلطانِ دین‌پناهان
بر حالِ زارِ عثمان چشمِ کرم خدا را
(نواب میر عثمان علی خان آصف‌جاه سابع)

ترجمہ:
میں ابروئے مصطفیٰ کو قوسین کیوں نہ کہوں کہ ایزد تعالیٰ نے اُس چشمِ حق نما کو ‘ما زاغ’ کہا ہے۔
میں نے طاعتِ الٰہی کے ذریعے جمالِ احمد دیکھا اور حُبِّ مصطفائی سے میں خدا تک پہنچا اور اُس کی ذات کو پہچانا۔
مجھے یقین ہے کہ جو بھی شخص بحرِ محبّت میں غوطہ زن ہوا، وہ اُس بیش قیمت دُر کو پا لے گا۔
اے وہ کہ جن کی ذات کریمی و سخاوت کی انجمن ہے! اے شاہ! آپ کے فیض سے کیا بعید ہے اگر آپ درویشِ بے نوا کو نواز دیں۔
اے دل! اگر تم آبرو چاہتے ہو تو صِدقِ نیّت کے ساتھ بحرِ حق میں فنا ہو جاؤ، تمہیں بقا کا دُر مل جائے گا
اگر ہمیں آستانہ بوسی نصیب ہو جائے تو میں [اپنی] جان کو روضۂ مقدس پر فدا کر دوں۔
ساقی کے فیض کا بحر مستوں کو مُژدہ دیتا ہے کہ ‘اے مستو! ساغرِ مَے تھام لیجیے۔’
اے خسروِ حسیناں! اے شاہِ نازنیناں! [اپنی] تجلّی سے کاشانۂ گدا کو منور کر دیجیے۔
اے تاجِ کج کُلاہاں! اے سلطانِ دیں پناہاں! عثمان کے حالِ زار پر خدارا نظرِ کرم کیجیے۔

× بیتِ اول میں سورۂ نجم کی آیت ۱۷ کی جانب اشارہ ہے۔
× دُر = موتی


ای وجودون اثری خلقتِ اشیا سببی – محمد فضولی بغدادی (نعت)

بحر = فعلاتن فعلاتن فعلاتن فعلن

ای وجودون اثری خلقتِ اشیا سببی
نبی اول وقت که بالفعل گرکمزدی نبی
سیدِ ابطحی و مکّی و اُمّی و ذکی
هاشمی و مدنی و قُرشی و عربی
سبقتِ ذات ایله ایوانِ رسالت صدری
شرفِ اصل ایله فهرستِ رُسُل منتخبی
عزمِ چرخ ائتدی مسیحا که بولا معراجین
یئتمه‌دی منزلِ مقصودا طریقِ طلبی
انبیادا کیمه سن تک بو میسّردیر کیم
آدمه وجهِ مُباهات اولا عزِّ نسبی
خلفِ معتبرِ آدم و حوّا سنسن
جَعَل اللهُ فَداءً لَکَ اُمّی وَاَبی
یا نبی! قیلما فضولینی قاپیندان محروم
عفو قیل وار ایسه درگاهدا ترکِ ادبی
(محمد فضولی بغدادی)

جمہوریۂ آذربائجان کے لاطینی خط میں:
Ey vücudun əsəri, xilqəti-əşya səbəbi!
Nəbi ol vəqt ki, bilfe’l gərəkməzdi nəbi.
Seyyidi-əbtəhiyü məkkiyü ümmiyü zəki,
Haşimiyü mədəniyü qürəşiyü ərəbi.
Səbqəti-zat ilə eyvani-risalət sədri,
Şərəfi-əsl ilə fehristi-rüsul müntəxəbi.
Əzmi-çərx etdi Məsiha ki, bula me’racın,
Yetmədi mənzili-məqsudə təriqi-tələbi.
Ənbiyada kimə sən tək bu müyəssərdir kim,
Adəmə vəchi-mübahat ola izzi-nəsəbi.
Xələfi-mö’təbəri-Adəmü Həvva sənsən,
Cə’ələllahü fədaən ləkə ümmi və əbi.
Ya Nəbi, qılma Füzulini qapından məhrum,
Əfv qıl, var isə dərgahdə tərki-ədəbi.

ترجمہ:
اے کہ آپ کے وجود کا اثر تمام اشیاء کی تخلیق کا سبب ہے۔ آپ اُس وقت بھی نبی تھے جب ہنوز کسی نبی کی ضرورت نہ تھی۔
اے آپ کہ سیدِ ابطحی، مکّی، اُمّی، ذکی، ہاشمی، مدنی، قریشی اور عربی ہیں۔
آپ اپنی ذات کی سبقت کے ساتھ ایوانِ رسالت کے صدر ہیں؛ جب کہ اپنے اصل کے شرف کے ساتھ رسولوں کی فہرست میں برگزیدہ ہیں۔
مسیح نے آپ کی معراج تک پہنچے کے لیے چرخ کا عزم کیا تھا؛ لیکن اُن کی راہِ طلب منزلِ مقصود تک نہ پہنچ سکی۔
انبیاء میں آپ کی طرح کسے یہ میسّر ہوا ہے کہ اُس کے نسب کی ارجمندی حضرت آدم کے لیے باعثِ افتخار ہو۔
آدم و حوا کے محترم فرزند و جانشین آپ ہیں؛ اللہ میرے مادر و پدر کو آپ پر فدا کرے!
یا نبی! فضولی کو اپنے در سے محروم مت کیجیے؛ اگر آپ کی درگاہ میں اُس سے کوئی ترکِ ادب ہو گیا ہو تو عفو کیجیے۔