مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کی ملّی و اسلامی زبان

۱۹۱۲ء میں طباعت کا آغاز کرنے والے وسطی ایشیا کے اولین فارسی نشریے ‘بخارائے شریف’ نے اپنے شمارۂ پانزدہم میں فارسی کو ‘مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کی ملّی و اسلامی زبان’ کہہ کر یاد کیا تھا:
"۔۔۔۔امارتِ بخارا دارای سه میلیون نفوس است، تا اکنون اهالیِ ترکستان و ماوراءالنهر یک روزنامه به زبانِ ملی و اسلامیِ خود نداشتند. حالا از غیرت و همتِ ملت‌پسندانهٔ چند نفر معارف‌پرور و ترقی‌خواهانِ بخارای شریف این رونامهٔ مسمّیٰ به ‘بخارای شریف’ به زبانِ فارسی، که زبانِ رسمیِ بخارا هست، تأسیس شده و از عدم به وجود آمده و به طبع و نشرِ آن اقدام نموده شد. حالا برای ۹-۱۰ میلیون نفوسِ اسلامیهٔ ترکستان و ماوراءالنهر همین یک روزنامه است و فقط.”
ترجمہ: "۔۔۔۔۔امارت بخارا کی آبادی تیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، [لیکن] تا حال مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کا اپنی ملی و اسلامی زبان میں کوئی روزنامہ نہیں تھا۔ اب شہرِ بخارائے شریف کے چند معارف پرور و ترقی خواہ نفور کی ملت پسندانہ غیرت اور کوشش سے یہ ‘بخارائے شریف’ نامی روزنامہ فارسی زبان میں، کہ بخارا کی رسمی زبان ہے، تأسیس ہوا ہے اور عدم سے وجود میں آیا ہے اور اِس کے طبع و نشر کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ حالا ترکستان و ماوراءالنہر کے ۹۰-۱۰۰ لاکھ نفوسِ اسلامیہ کے برائے یہی ایک روزنامہ ہے اور بس۔”
ماخذ

سلام بر تو، ای زبانِ من!
سلام بر تو، ای شهرِ بخارای شریف!

Advertisements

روزِ عرسِ بیدل

روزِ عرسِ بیدل:
روز چهارم ماه صفر یکی از روزهای‌ برجستهٔ تاریخ ادبیات افغانستان به شمار می‌آید و به نام "روز عرس بیدل” معروف است. این روز در غالب کشور‌های آسیای میانه که با ادبیات دری انس و الفت دارند و ادبیات مشترکشان به شمار می‌آید با مراسم خاصی تجلیل می‌شود. در تاجکستان و ازبکستان و سایر بلاد ماوراءالنهر علاقهٔ زیادی به حضرت بیدل ابراز می‌شود و در این روز از او یادبود می‌کنند و آن را "روز عرس میرزا” می‌نامند. در نیم‌قارهٔ هند و پاکستان نیز ارادت مخصوصی به وی ورزیده می‌شود و صدرالدین عینی در کتاب خود به نام "میرزا عبدالقادر بیدل” می‌نویسد که در ایام باستان در شاه‌جهان‌آباد "دهلی امروز” در این روز نخست کلیات بیدل را که به خط خودش ترتیب شده بود برآورده به خانهٔ وی در آنجا که مرقد او پنداشته می‌شود در میان می‌گذاشتند و از آثار او برمی‌خواندند، بر آن بحث می‌کردند. در افغانستان نیز همواره یک محبت و عشق مفرطی به بیدل و آثارش موجود بوده‌است. نظم و نثر بیدل خوانده می‌شود، اشعارش به حیث شاهد قول ذکر می‌شود، به تصوف و روحانیت وی مردم معتقدند، اهل دل و اهل عرفان به وی ارادت‌ها می‌ورزند، نام او را به تکریم می‌برند، غالباً حضرت بیدل و حضرت میرزا می‌گویند، در مکتب‌ها و مدارس آثار او تدریس می‌شود، شعر و نثر او مورد بحث و فحص قرار می‌گیرد و بالآخره روز عرس وی در محافل مختلف و مجامع با ذکر بیدل و قرائت آثارش برگزار می‌شود و این از سال‌ها در این مملکت که منبع و مهد زبان و ادبیات دری است معمول است.

کتاب: تاریخِ ادبیاتِ افغانستان
مصنف: محمد حیدر ژوبل
سالِ اشاعت: ۱۹۵۷ء

روزِ عرسِ بیدل:
ماہِ صفر کے روزِ چہارم کا شمار ادبیاتِ افغانستان کی تاریخ کے ایک ممتاز دن کے طور پر ہوتا ہے اور یہ دن ‘روزِ عرسِ بیدل’ کے نام سے معروف ہے۔ ادبیاتِ فارسی سے اُنس و الفت رکھنے اور اسے اپنا مشترک ادب شمار کرنے والے اکثر وسطی ایشیائی ملکوں میں یہ روز خاص مراسم کے ساتھ تجلیل کیا جاتا ہے۔ تاجکستان، ازبکستان اور دیگر بلادِ ماوراءالنہر میں حضرتِ بیدل سے بہت زیادہ دل بستگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس روز اُن کی یاد منائی جاتی ہے اور اسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کا نام دیا جاتا ہے۔ برِ صغیرِ ہند و پاکستان میں بھی اُن سے خاص ارادت کا اظہار ہوتا ہے اور صدرالدین عینی اپنی ‘میرزا عبدالقادرِ بیدل’ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ قدیم ایام میں شاہ جہاں آباد، یعنی دہلیِ امروز، میں اِس روز اولاً کلیاتِ بیدل کے اُس نسخے کو، کہ جو اُن کے اپنے خط سے مرتب ہوا تھا، لا کر اُن کے گھر میں اُس جگہ کہ جہاں اُن کی مرقد ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، بیچ میں رکھا کرتے تھے اور اُن کی تالیفات میں سے قرائت اور اُس پر بحث کیا کرتے تھے۔ افغانستان میں بھی بیدل اور اُن کی تالیفات سے ایک از حد زیاد عشق و محبت موجود رہا ہے۔ بیدل کی نظم و نثر پڑھی جاتی ہے، اُن کے اشعار شاہدِ قول کی حیثیت سے ذکر ہوتے ہیں، لوگ اُن کے تصوف و روحانیت کے معتقد ہیں، اہلِ دل و اہلِ عرفان اُن کے ارادت مند ہیں، اُن کا نام تکریم سے لیتے ہیں، زیادہ تر اُنہیں حضرتِ بیدل اور حضرتِ میرزا کہہ کر یاد کرتے ہیں، مکاتب و مدارس میں اُن کی تالیفات کی تدریس ہوتی ہے، اُن کی شاعری و نثر بحث و فحص کا مورد بنتی ہے اور بالآخر اُن کا روزِ عرس مختلف محفلوں اور مجمعوں میں بیدل کے ذکر اور اُن کی تالیفات کی قرائت کے ساتھ منعقد ہوتا ہے اور یہ سالوں سے اس مملکت میں کہ جو زبانِ و ادبیاتِ فارسی کا منبع اور گہوارہ ہے، معمول ہے۔

===========

"در زمانِ پیشتره، خصوصا‌ً در هندوستان، در خانهٔ خود دفن کرده شدنِ دانشمندانِ کلان عادت بود. بنا بر این در صحنِ خانهٔ خود مدفون شدنِ این فیلسوفِ بزرگ جای تعجب نیست.
کلیاتِ آثارِ این سخنورِ دانش‌گستر، که با دست‌خطِ خود ترتیب داده بود، در خانهٔ خودش محفوظ بود. هر سال در روزِ وفاتش، که این روز را ‘روزِ عرسِ میرزا’ می‌نامیدند، شاعران و دانشمندانِ شاه‌جهان‌آباد به سرِ قبرش غن می‌شدند، آن کلیات را برآورده در میانهٔ مجلس گذاشته می‌خواندند و محاکمه می‌کردند و به این واسطه، آن ‘دلِ در پیکرِ سخن حرکت‌کننده را’ یادآوری می‌نمودند.”

کتاب: میرزا عبدالقادرِ بیدل
نویسندہ: صدرالدین عینی
سالِ اشاعت: ۱۹۵۴ء

"گذشتہ زمانے میں، خصوصاً ہندوستان میں، عظیم دانشمندوں کو اپنے گھر میں دفن کرنے کا رواج تھا۔ لہٰذا اِن بزرگ فلسفی کا اپنے گھر کے صحن میں مدفون ہونا تعجب کی بات نہیں ہے۔
اِن سخنورِ دانش گُستر کی کلیاتِ آثار، کہ جسے اُنہوں نے اپنے خط سے مرتّب کیا تھا، اُن کے اپنے گھر میں محفوظ تھی۔ ہر سال اُن کی وفات کے روز، کہ جسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کہا جاتا تھا، شاہ جہاں آباد کے شاعر اور دانشمند اُن کی قبر کے کنارے جمع ہوتے تھے، اُس کلیات کو باہر لا کر اور مجلس کے درمیان رکھ کر پڑھتے تھے اور بحث و گفت و شنید کرتے تھے اور اس ذریعے سے اُس ‘پیکرِ سخن میں حرکت کرنے والے دل’ کو یاد کیا کرتے تھے۔”

× ‘غُن/ғун’ ماوراءالنہری فارسی کا علاقائی لفظ ہے۔
× دانش گُستر = دانش پھیلانے والا


قرغیز دارالحکومت بشکیک میں سعدی شیرازی کو یاد کیا گیا

اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کی جانب سے ‘یومِ سعدی’ کی مناسبت سے قرغیزستان کے عالموں، شاعروں، اور سرکاری و عوامی شخصیات کی معیت میں ایک علمی و ادبی محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں سخن سرائے بے نظیرِ تاجک و فارس شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کے آثار و روزگار کے گوناگوں پہلوؤں کے بارے میں اظہارِ نظر کیا گیا۔
اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کے رئیس اکبر رِسقُلوف نے اس نشست کے افتتاح کے ضمن میں تاجک/فارس ثقافت و ادبیات کو عالمی میدان میں اہم مقام کا حامل بتلایا اور اس تمدن کے بزرگوں کی تالیفات کے قرغیزی زبان میں ترجمے اور نشر کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا۔
استاد رودکی کے نام پر قائم انجمنِ تاجکانِ قرغیزستان کے نائب رئیس اور تاجک نشریے ‘پیامِ الاتاؤ’ کے مدیرِ اعلیٰ قادرشاہ مروت نے حاضرین کے سامنے تاجکستان میں شیخ سعدی کی تالیفات کی تعلیم اور نشر کے مورد میں گفتگو کی۔ اُنہوں نے معاصر تاجکستانی معاشرے میں ان بزرگ شاعر و عارف کی حیثیت کو گراں بہا پکارتے ہوئے اس بات کی تاکید کی کہ تاجکستان میں طفلِ مکتب خواں سے لے کر شہر و دیہات کے بزرگ سالوں تک، ہر کوئی سعدی کے اشعار اور اُن کی شخصیت کو جانتا ہے اور دوست رکھتا ہے۔
اس محفل میں قرغیزستان کے تاجک دانشور عبدالحلیم رحیم جانوف نے ‘تالیفاتِ شیخ سعدی میں انسان دوستی’ کے موضوع پر خطاب کیا۔ نیز، قرغیزستان میں سفارتِ ایران کے ثقافتی شعبے کے رہبر علی کبریازادہ نے اس بات کا اظہار کیا کہ ایران کی مالی کمک سے حال ہی میں ‘گلستانِ سعدی’ اولین بار قرغیزی زبان میں ترجمہ اور نشر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تالیف کا ترجمہ مشہور قرغیز مترجم کُوبانیچ بیک باسِل بیکوف کی کوششوں سے انجام کو پہنچا ہے اور اب قرغیز قارئین سعدی کی اس تالیف کو اپنی مادری زبان میں پڑھنے کا امکان رکھتے ہیں۔
قرغیزستان کے عوامی شاعروں حسن ژاکشِلیکوف اور مریم ابوالقاسم اووا، جمہوریۂ قرغیزستان کی روسی شاعرہ سویتلانا سُسلووا، اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کی رکن شائستہ روشن اور چند دیگر افراد نے شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کی زندگی، اُن کے مقام، اُن کی تخلیقات کے مختلف پہلوؤں، اور اُن کی لازوال تالیفات کے قرغیز ادبیات پر اثر کے بارے میں سخن فرمایا اور تمام علاقہ مندانِ شعر و ادب کو یومِ سعدی کی تبریکات پیش کیں۔
بعد ازاں، دانشگاہِ بیشکک میں فارسی کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے اس محفل میں ان شاعرِ بزرگ کی غزلوں کی اصل فارسی زبان میں قرائت کی۔
صدارتِ اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کے مشورے کے تحتِ نظر اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ انجمنِ تاجکانِ قرغیزستان کی ہمکاری میں بہت جلد بشکیک میں معاصر تاجک شاعری پر گفتگو کرنے کے لیے ایک ادبی نشست منعقد کی جائے گی۔

ماخذِ خبر: تاجک اخبار ‘خاور’
تاریخ: ۲۴ اپریل ۲۰۱۵ء


مشہد میں امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا

امیر علی شیر نوائی کے ۵۸۴ویں یومِ ولادت کے موقع پر شاعر کی تالیفات، افکار اور خدمات پر گفتگو کے لیے آج سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا ہے۔
ادبیات، ترجمہ، دین و عرفان، سیاست، مکتبِ ہرات، زبان شناسی، علی شیر نوائی کی خدمات اور اسی طرح کے دیگر موضوعات سے مرتبط یہ مؤتمر صوبے، ملک اور منطقے کی مشہور شخصیات کی معیت میں آج صبح نو بجے سے شروع ہو گیا ۔
مؤتمر کے انعقاد کرنے والوں کے مطابق یہ مؤتمر ایران اور وسطی ایشائی ممالک کے درمیان ثقافتی، اجتماعی، سیاسی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے ہدف کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ وسطی ایشیائی ممالک میں ثقافتی وحدت کی ایجاد میں اس شاعر و عارف کی تصنیفات، تفکرات اور ثقافتی خدمات کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اس مؤتمر کے دیگر اہداف میں ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کے پیوند میں امیر علی شیر نوائی کے کردار کی تکریم اور شاعر پر تحقیقات کرنے والے منطقے کے محققوں کے درمیان گفتگو اور آراء کا تبادل شامل ہیں۔
علاوہ بریں، یہ طے پایا ہے کہ خاص نشستوں میں آج شام سے شرکائے مؤتمر کی جانب سے مقالات پیش ہونے شروع ہو جائیں گے۔ اور اس مؤتمر میں پیش کیے جانے والے منتخب تحقیقی مقالات بعد میں دو مجموعوں کی شکل میں شائع کیے جائیں گے۔
۱۶ رمضان ۸۴۴ ہجری کو اپنی آنکھیں کھولنے والے امیر علی شیر نوائی خطے کے ثقافتی و اجتماعی مفاخر میں سے ایک ہیں جنہوں نے عمرانی کاموں اور مشکلاتِ مردم کی برطرفی میں مشغول رہنے کے علاوہ دو زبانوں فارسی اور چغتائی ترکی میں وافر شعر گوئی بھی کی ہے۔
امیر علی شیر نوائی کا ترکی اشعار میں تخلص ‘نوائی’ جبکہ فارسی اشعار میں ‘فانی’ اور ‘فنائی’ تھا۔
نوائی فارسی گو شاعروں حافظ، سعدی، عطّار، جامی وغیرہ سے عشق کرتے تھے لیکن اُنہوں نے چغتائی ترکی کو بھی اپنے فنی اظہار کا ذریعہ بنایا۔
نوائی کے بعد چغتائی ترکی اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہنا ایک ادبی روایت بن گیا اور ماوراءالنہر کا منطقہ فارسی اور چغتائی ادب کے محلِّ تخلیق میں تبدیل ہو گیا۔

ماخذِ خبر
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

* مؤتمر = کانفرنس


تاشقند میں مولانا جامی کا چھ سو سالہ جشن

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ۲۸ نومبر ۲۰۱۴ء کو مشرق زمین کے معروف و خوش کلام شاعر و مصنف مولانا نورالدین عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے ایک ادبی و ثقافتی محفل منعقد ہوئی۔ جمہوریۂ ازبکستان کے بین الاقوامی ثقافتی مرکز کے اساسی ایوان میں برپا ہونے والی اس محفل میں اہلِ علم و ادب، شاعروں، نویسندوں، استادوں اور طالب علموں، اور ازبکستان میں مقیم تاجکستانی سفارت کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس باشکوہ مجلس کے شرکاء نے تمدنِ انسانی کے خزینے میں اضافہ کرنے والے اور یادگار کے طور پر نیک نام چھوڑنے والے اس زبردست ادیب و عالم کی شائستہ خدمات کو بہت اہم بتلایا۔ عالمی ثقافت کی غنی سازی میں اور (اُن کے تربیتی و اخلاقی شاہکار ‘بہارستان’ کے حوالے سے) تربیتی مقاصد کی تشکیل میں اس نابغۂ سخن کے کردار کی بہت بلند درجے میں قدر دانی کی گئی۔ انسانِ کامل کے وصف میں اور مختلف طبقوں کے انسانوں کی منفعت کی خاطر تحریر شدہ مولانا عبدالرحمٰن جامی کی جملہ تالیفات، اور اسی طرح اعلیٰ دنیاوی اقدار – مثلاً انسان پروری، وطن دوستی، صادقانہ رفاقت، اور مختلف قوموں کے مابین ہم سازی و ہم بستگی – کی برقراری میں اس سخنور کے نقشِ شایاں کی شرح و تفسیر کی گئی۔ معاشرے کے مقدس ترین فرد ‘زنِ مادر’ کی فضیلت کے حامی ان شاعر کے آثارِ منظوم مندرجہ ذیل مصرعوں کے ہمراہ موردِ ستائش قرار پائے:
سر ز مادر مکش که تاجِ شرف
گردی از راهِ مادران باشد
خاک شو زیرِ پای او که بهشت
در قدمگاهِ مادران باشد
مکاتب کے بچوں نے مولانا عبدالرحمٰن جامی کی گوناگوں نوعی اور مضامین سے پُر تصنیفات اور اُن کی گراں قدر تالیفات میں سے چند حصوں کی قرائت کی۔ ازبکستان کی معروف و ممتاز فارسی گو گلوکاراؤں منیرہ محمد اور گل چہرہ بقا نے اپنے دلنشین سرودوں سے محفل کو خاص شکوہ و رنگ بخشا۔
اسی طرح، مولانا عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے رواں سال ازبکستان میں ‘رسالۂ عروض’ اور ‘عبدالرحمٰن جامی‌نینگ ایجاد عالمی’ نامی کتابیں فارسی اور ازبکی زبانوں میں نشر ہوئیں، جن میں شاعروں، مصنفوں اور دیگر اہلِ علم و ثقافت کے مقالات جمع کیے گئے ہیں۔
ازبکستان میں تاجکستان کے سفیر مظفر حُسین نے دو برادر اقوام تاجکوں اور ازبکوں کے درمیان روایتی اور دوستانہ روابط کی برقراری میں اس گوہرشناس ادیب کے عالی کردار کی بھی بڑی قدر دانی کی۔ تاجکستان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے مولانا عبدالرحمٰن جامی کی قدردانی پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے خصوصی طور پر تاجکستان کے صدر کی طرف سے ۲۰۱۴ء کے سالِ عبدالرحمٰن جامی کے طور پر اعلان کیے جانے کا تذکرہ کیا اور ساتھ ہی ملک میں اور ملک سے باہر اس سلسلے میں برپا کی جانے والی مختلف محافل اور کوششوں کا تاکیداً ذکر کیا۔ انہوں نے اس طرح کی مشترک علمی و ادبی محفلوں کو زمانے کے تقاضوں کا جوابدہ نام دیا۔ ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ یہ ثقافتی نشستیں دو ہم جوار ملکوں کے لوگوں کو نزدیک کرتی ہیں اور ساتھ ہی دوجانبہ دوستانہ تعلقات کی استواری و ترویج کے راستے میں پُل کے طور پر خدمات انجام دیتی ہیں۔

(منبع: تاجک اخبار ‘خاور’)
خبر کی تاریخ: ۲ دسمبر ۲۰۱۴ء


امیر علی شیر نوائی پر ادبیاتِ فارسی کا اثر

"وسطی ایشیائی ترکی گویوں کے ادبیات کی عظیم شخصیات میں ایک چہرۂ دیگر امیر علی شیر نوائی کا ہے، کہ جو دیوانِ ترکی کے علاوہ ایک دیوان فارسی زبان میں بھی رکھتے ہیں جس میں اُن کا تخلص ‘فانی’ ہے۔ یہ معروف شاعر، قرنِ نہمِ ہجری کے بزرگ ترین اور عالم ترین فارسی گو شاعر نورالدین عبدالرحمٰن جامی کے ہم عصر تھے اور ملا جامی کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ نیز، انہوں ہی نے جامی کی شرحِ حال میں ‘خمسۃ المتحیرین’ کے نام سے ایک کتاب چغتائی ترکی میں تحریر کی تھی۔
اگر ہم نوائی کی تالیفات پر از روئے انصاف نظر ڈالیں، تو ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے ترکی زبان میں اپنے عصر کی اُن تمام ادبی اصناف میں سخن آفرینی کی ہے جو ادبیاتِ فارسی میں رائج رہی ہیں اور اس سلسلے میں وہ وافر کمالات حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ مثنوی ‘حیرت الابرار’ میں کہتے ہیں:
اُول صفا اهلی پاک فرجامی
پاک فرجام و پاکفر جامی
اُول یقین ساری دستگیر منگا
قبله و اوستاد و پیر منگا
نوائی کے جو اشعار ہم نے پیش کیے ہیں اُن سے ظاہر ہے کہ وہ عبدالرحمٰن جامی کے احترام کے کس حد تک قائل تھے۔ وہ ان اشعار میں جامی کو اپنا استاد، پیر اور قبلہ پکار کر اُن کی عظمت میں رطب اللسان ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس کے مقابل میں مولانا جامی نیز اُن سے کامل محبت رکھتے تھے اور در حقیقت ان دو بزرگوں کے مابین رابطہ، شمس تبریزی اور مولانا جلال الدین محمد بلخی رومی کے باہمی ارتباط کی طرح تھا۔ اگر کوئی تفاوت تھا تو وہ یہ تھا کہ شمس اور مولانا رومی دونوں ایرانی تھے جبکہ نوائی اور جامی میں سے اول الذکر ترک اور ثانی الذکر تاجک تھے۔
علی شیر نوائی کی تالیفات پر جامی کی تصنیفات، اور بالعموم فارسی ادبیات کے اثر کے موضوع پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن میں بطورِ مثال نوائی کے ایک شعر کو لانے اور اُس شعر کے ایک فارسی گو شاعر کے شعر سے موازنہ کرنے ہی پر اکتفا کر رہا ہوں:
عارضین یاپغاچ کؤزیمدین ساچیلور هر لحظه یاش
اؤیله کیم پیدا بؤلور یولدوز، نهان بؤلغاچ قویاش
یہ مندرجہ بالا شعر کمال خجندی کے ایک بیت کے مضمون کی کاملاً تکرار ہے:
تا رخ نپوشد کی شود از دیده اشکِ ما روان
پنهان نگشته آفتاب اختر نمی‌آید برون
(اردو ترجمہ:جب تک وہ اپنا رخ پوشیدہ نہ کر لے اُس وقت تک آنکھ سے ہمارے آنسو کیسے رواں ہو سکتے ہیں؟ جب تک آفتاب پنہاں نہ ہو جائے، اُس وقت تک ستارہ باہر نہیں آتا۔)
اس طرح اس بات کی بھی یاد آوری کرنی چاہیے کہ ‘خمسۂ نوائی’ میں بھی شاعر نے موضوع اور اسلوب دونوں کے لحاظ سے حکیم نظامی گنجوی اور امیر خسرو دہلوی کے ‘خمسوں’ کی پیروی کی ہے۔
نوائی کی تالیفات میں شیخِ اجل سعدی شیرازی کی کتابوں ‘گلستان’ اور ‘بوستان’ کے مضامین کا بھی فراواں استعمال ہوا ہے اور اُن کے جملہ آثار میں لسان الغیب خواجہ حافظ شیرازی کی غزلوں کا اثر بخوبی مشہود ہے۔”

(صَفَر عبداللہ کی کتاب ‘نورِ سخن’ میں شامل مضمون ‘نقشِ ادبیاتِ فارسی در شکل گیریِ ادبیاتِ اقوامِ ترکی زبانِ آسیائے مرکزی’ سے اقتباس اور ترجمہ)


امیر علی شیر نوائی: تُرکوں کے چَوسر

مغربی یورپ اور امریکی برِ اعظموں کے اکثر لوگوں کے نزدیک لفظ ‘ترک’ کا مطلب صرف ترکی کا باشندہ ہے۔ بہت کم لوگ ہی یہ ادراک کرتے ہیں کہ دنیا بھر کے نو کروڑ ترکوں – یعنی کوئی ترک زبان اور بولی بولنے والے لوگوں – کی ساٹھ فیصد تعداد جمہوریۂ ترکی سے باہر مقیم ہے۔
مثال کے طور پر سوویت اتحاد کے ترکوں – یعنی ازبکوں، تاتاروں، قزاقوں، آذریوں، ترکمنوں، قرغیزوں، باشقُردوں، قراقالپاقوں، قُومُوقوں، یاقُوتوں، اویغروں اور قراچائیوں – کی تعداد کم و بیش ترکی کے ترکوں ہی کے برابر ہے۔ اس کے علاوہ چین، ایران، افغانستان، بلغاریہ، قبرص، عراق، شام، یونان، یوگوسلاویہ، رومانیہ اور منگولیہ میں بھی قابلِ ذکر ترک اقلیتیں موجود ہیں۔ ترک نام کا یہ مجموعی گروہ مختلف قسم کے لوگوں کا مجموعہ ہے جو کثیر الانواع جسمانی ہیئتوں، معاشرتی ڈھانچوں، زندگی کی طرزوں، سیاسی ہمدردیوں اور ثقافتی وابستگیوں کے حامل ہیں۔
مع ہٰذا، ان باہمی فًرقوں کو دو عواملِ اتحاد کم کرتے ہیں: اسلام – پچانوے فیصد ترک مسلمان ہیں – اور ترک ماضی کی تقریباً نامعلوم عظمتوں پر فخر۔ انہی عظمتوں کی ایک عمدہ مثال پندرہویں صدی کے معزز مصنف میر علی شیر نوائی ہیں، جنہیں اسلام کے انگریز مؤرخ اور مستشرق برنارڈ لوئس نے ‘ترکوں کے چوسر’ کا لقب دیا ہے۔
نوائی کے تخلص سے مشہورِ عالم میر علی شیر نے ترک ادبیات کی بنیاد نہیں رکھی تھی۔ در حقیقت، ترک ادبیات کی تاریخ تو نوائی سے بھی کم سے کم سات سو سال پہلے تک جاتی ہے۔ لیکن نوائی نے وہ کام کیا جو چوسر نے ایک صدی قبل انگلستان میں کیا تھا، یعنی اُنہوں نے ترک گفتاری بولی میں اولین ممتاز ادیب بن کر ایک نئے قومی ادب کا انقلاب برپا کیا تھا۔
نوائی کے باصلاحیت ہاتھوں میں ترکی زبان کو، جسے اُس وقت کے اہلِ قلم روایتی طور پر گنوار اور ادنیٰ سمجھتے تھے، اعلیٰ ترین درجے کی نظم و نثر کے دل پذیر ذریعے کے طور پر پہچان ملی۔ اگرچہ اُس وقت کے عربی اور فارسی سے وابستہ ادبی حلقے اس بات کا دعویٰ کرتے تھے کہ وحشی ترکی زبان لطیف خیالات اور ارفع جذبات کو فصاحت، لطافت اور قوت کے ساتھ بیان کرنے پر قادر نہیں ہے، لیکن نوائی نے اپنے بے نظیر فن کی بدولت، اُنہیں غلط ثابت کر دکھایا۔
میر علی شیر نوائی ۱۴۴۱ء میں ہرات میں پیدا ہوئے تھے جو اب شمال مغربی افغانستان میں واقع ہے۔ اُس زمانے میں شہرِ ہرات خراسان کے حاکم اور عظیم تیمور لنگ کے چوتھے اور سب سے قابل بیٹے شاہزادہ شاہ رخ کا دارالحکومت اور قیام گاہ تھا۔ اگرچہ تیمور لنگ کا دارالحکومت آمو دریا کے شمال میں واقع شہر سمرقند تھا، لیکن یہ خراسان کا شہر ہرات تھا کہ جسے شاہ رخ کے ۱۳۹۷ء سے لے کر ۱۴۴۷ء تک جاری رہنے والے تابندہ و درخشاں دورِ حکومت میں مشرقی اسلامی دنیا کے والاترین علمی و ثقافتی مرکز بننے کا شرف حاصل ہوا تھا۔ ہرات کے حریف شہروں میں دوسرے درجے پر سمرقند تھا جو ۱۴۰۹ء سے ۱۴۴۶ء تک شاہ رخ کے بیٹے، اور مشہور ریاضی دان اور ستارہ شناس، الوغ بیگ کی حاکمیت میں تھا۔
پندرہویں صدی کے پہلے نصف کے پورے عرصے کے دوران شہرِ ہرات کی غالب ثقافت فارسی/ایرانی تھی۔ یہ حقیقت ہے کہ شاہ رخ خود ترک تھا، نیز حکمران طبقے کے ارکان کی اکثریت اور ہرات کے عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد بھی ترک تھی۔ لیکن اوائلی فارسی/ایرانی تمدن کے چکاچوند کر دینے والے کارنامے سب کے سامنے اظہر من الشمس تھے، اور اس کے وقار اور مسلّمہ درخشندگی پر وسطی ایشیائی ترک فریفتہ تھے۔ ترک الاصل ادباء فارسی زبان میں لکھنے کو ترجیح دیتے تھے، جسے مسلم مشرق میں ثقافت اور علم کی زبان کے طور پر سراہا جاتا تھا۔ جبکہ ترک نسل کے مصور کلاسیکی فارسی/ایرانی نمونوں کی تقلید کرتے تھے۔ اس سے قبل، خود فارسی/ایرانی تمدن کو بھی عرب، اسلام کی جلا بخش توانائی کے ذریعے، ناقابلِ تنسیخ طور پر بدل چکے تھے۔
یہ تھا وہ ماحول جس میں نوائی نے اپنی آنکھیں کھولی تھیں۔ اُنہوں نے مشہد (موجودہ شمال مشرقی ایران کا شہر)، ہرات اور سمرقند میں تعلیم حاصل کی تھی، بعد ازاں وہ ۱۴۶۹ء میں ہرات واپس آ گئے تھے جہاں اُن کا پرانا ہم مکتب اور تیمور کا پر پوتا حسین بایقرا خراسان کا سلطان بن چکا تھا۔ نوائی کی اس زمانے سے پہلے کی ادبی کوششوں کے بارے میں کوئی معلومات دسترس میں نہیں ہے۔ البتہ اگلی تین دہائیوں میں وہ اسلامی ادبیات کی تاریخ میں اپنے لیے حقیقی معنوں میں ایک زمانہ ساز ادیب کا مقام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے، اور انہوں نے ان دہائیوں میں ہرات کو وہ رتبہ دینے میں کلیدی کردار ادا کیا تھا جس کے بارے میں فرانسیسی مستشرق رینے گروسیت کے الفاظ یہ ہیں کہ اُس وقت کا ہرات ‘تیموری نشاۃِ ثانیہ کے نام سے درست طور پر یاد کی جانے والی تحریک کا فلورنس تھا۔’ [اس قول کا پس منظر یہ ہے یورپی تہذیبی نشاۃِ ثانیہ کا آغاز فلورنس سے ہوا تھا۔]
۱۴۶۹ء سے لے کر ۱۵۰۱ء میں اپنی وفات تک، در حقیقت، ایک نہیں بلکہ چار مختلف میر علی شیر نوائی گذرے ہیں، جن میں سے ہر ایک نوائی کی اسلامی تاریخ میں اپنی خاص اہمیت ہے۔ نوائی اپنی پہلی حیثیت میں سلطان حسین بایقرا کے معتمد و مشیر اور عوامی منتظم تھے۔ عمومی طور پر اگرچہ نوائی نے اپنے فن و ہنر کے لیے خود کو شدت سے وقف کر رکھا تھا، لیکن وہ دوسرے دنیاوی امور سے قطعاً بے علاقہ نہیں تھے۔ وہ سیاست اور قوانین سازی کے امور میں بہ طورِ کامل مشغول تھے، اور وہ اس سیاسی دنیا میں بڑی حد تک سلطان حسین سے اپنی قریبی، مگر بعض اوقات اتار چڑھاؤ رکھنے والی، دوستی کے نتیجے میں داخل ہوئے تھے۔ باوجودیکہ کچھ یورپی مصنفوں نے ادعا کیا ہے کہ نوائی سلطنت کے وزیر تھے، حقیقت یہ ہے کہ نوائی ہرات کے تیموری دربار سے کبھی وزیر یا وزیرِ اعظم کی حیثیت سے وابستہ نہیں رہے، گو وہ اس سے کم درجے کے سرکاری عہدوں پر ضرور فائز رہے تھے۔ تاہم گاہ گاہ اُن کی عمل داری تقریباً ایک وزیر ہی کے برابر ہوتی تھی: کم از کم ایک موقع پر ایسا ضرور تھا جب انہوں نے ۱۴۷۹ء میں سلطان حسین کی غیر موجودگی میں ہرات پر حاکمیت کی تھی۔ یہ دنیاوی و سیاسی امور یقیناً نوائی کے تحریر کے لیے وقف وقت میں شدید تخفیف کا باعث بنتے ہوں گے، لیکن یہ ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اپنے سلطان اور سلطنت کے مفادِ عامہ کی جانب ذمہ داری کا حقیقی جذبہ محسوس کرتے تھے۔
نوائی اپنی دوسری حیثیت میں ایک معمار تھے۔ کہا جاتا ہے کہ صرف خراسان ہی میں وہ ۳۷۰ کے قریب مسجدوں، مکتبوں، کتب خانوں، شفا خانوں، کاروان سرایوں، اور دیگر علمی، مذہبی اور رفاہی اداروں کی بنیاد، مرمت اور عطا و بخشش کا باعث بنے تھے۔ شاید ان تمام کارِ خیر کے لیے اُنہوں نے اپنے معقول ذاتی وسائل کے علاوہ دربار میں موجود اپنے اثر و رسوخ کا بھی استعمال کیا ہو گا۔ ہرات میں واقع خالصیہ مدرسہ اور نیشاپور (شمال مشرقی ایران) میں واقع تیرہویں صدی کے عارف شاعر فریدالدین عطار کا مقبرہ وہ چند مشہور عمارتیں ہیں جن کی تعمیر میں اُن کا ہاتھ تھا۔
البتہ ہم تمدن میں پائدار شراکتوں کے لیے سب سے زیادہ نوائی کی آخری دو حیثیتوں کے مرہونِ منت ہیں۔ اور وہ دو حیثیتیں ہیں: نوائی بطور علم، فن اور ادب کے سرپرست و مروِّج؛ اور نوائی بطور ادیب و مصنف۔
چونکہ نوائی خود ایک موسیقی داں، نغمہ ساز، خطاط، مصور، مجمسہ ساز اور بہت ہی زیادہ ہر فن مولا اور ہمہ گیر ادیب تھے، لہٰذا وہ فنی اظہار کی تمام تخلیقی صورتوں سے وابستہ تھے۔ وہ تیموری ثقافت کے کئی مثالی نابغوں کے دوست اور فیاض سرپرست تھے، جن کی فہرست میں مشہور فارسی شاعر جامی کا – کہ جن کی مدح و تمجید میں نوائی نے خمسۃ المتحیّرین لکھی تھی -، فارسی مؤرخوں میرخواند اور اُن کے پوتے خواندمیر کا، کتابوں کی تذہیب کے لیے مصوری اور نگارگری کرنے والے بہزاد اور شاہ مظفر کا، اور قل محمد، شیخ نائی اور حسین عودی جیسے موسیقاروں کا نام لیا جا سکتا ہے۔
لیکن ان سب چیزوں سے بڑھ کر، نوائی کو آج اس لیے یاد کیا اور موردِ احترام مانا جاتا ہے کیونکہ اُنہوں نے حیرت انگیز انداز سے ترکی ادب کو ایک کامیاب شکل عطا کی تھی اور اسے خوب فروغ دیا تھا۔ ۱۴۰۰ء سے قبل بھی غیر سنجیدہ اور لوک ادب کے لیے ترکی لہجوں کا استعمال عام تھا، لیکن پندرہویں صدری عیسوی کے پہلے نصف میں وسطی ایشیائی ادیبوں کے ایک چھوٹے سے گروہ نے پہلی بار ادبیاتِ عالیہ و لطیفہ کے لیے ترکی زبان کے استعمال کی جانب لڑکھڑاتے قدم اٹھائے تھے۔ اس نئے ادب کی بنیاد رکھنے والوں کو، جن میں سکّاکی، لطفی، یقینی اور گدائی جیسے شعراء شامل تھے، ایک خاص اور دشوار مسئلہ درپیش تھا۔ وہ اپنی شاعری کو فارسی-عربی شعر گوئی کے قبول کردہ قواعد اور معیارات کے مطابق لکھنا چاہتے تھے، لیکن اُن کے پاس خام مال کے طور پر جو ترکی زبان موجود تھی وہ ان قواعد و معیارات کے لیے کچھ زیادہ موزوں نہیں تھی۔ بہرحال، اُن لوگوں نے ترکی کے مکمل ذخیرۂ الفاظ اور مختلف دستوری ترکیبوں کے ماہرانہ استعمال سے اور عربی اور فارسی سے بے شمار الفاظ اور عبارات اخذ کر کے وسطی ایشیا اور خراسان کی ترکی بولی سے ایک نئی ادبی زبان کی تخلیق کی تھی جسے ‘چغتائی ترکی’ یا صرف ‘چغتائی’ کے نام سے جانا گیا۔
چغتائی زبان میں تحریر شدہ کچھ ابتدائی تصنیفات، مثلاً لطفی کی شاعری، یقیناً دائمی خوبیوں کی حامل ہیں۔ لیکن مختلف علاقائی پس منظر کی وجہ سے ان ابتدائی چغتائی مصنفوں کی اور حتیٰ کہ ایک ہی شہر میں رہنے والے مختلف مصنفوں کی زبانیں بھی باہم متفاوت اور بے ثبات ہوتی تھیں۔ نوائی نے یہ منظرنامہ پوری طرح بدل دیا۔ تین دہائیوں پر محیط اُن کی تیس کے قریب چغتائی تصنیفات کا مجموعی نتیجہ یہ نکلا کہ اس نئی ادبی زبان کا معیار مقرر ہو گیا اور اسے ثبات و استحکام مل گیا۔ اور یہ صرف اور صرف نوائی کی شاعری کی بے مثال خوبیوں کی بدولت تھا کہ ترکی زبان اپنے آپ کو ادبی اظہار کے قابلِ قدر ذریعے کے طور پر منوانے میں کامیاب ہو سکی۔
نوائی کے معروف ترین اشعار اُن کے چار دیوانوں – غرائب الصغر، نوادر الشباب، بدائع الوسط اور فوائد الکبر ۔ میں موجود ہیں۔ اُنہوں نے چغتائی زبان میں شاعری سے متعلق کچھ فنی رسالوں کی تصنیف کرنا بھی اپنا فرض سمجھا تاکہ دوسرے ترکی گو شعراء کو ان سے مدد مل سکے۔ مثال کے طور اُنہوں نے میزان الاوزان کے نام سے شعری اوزان پر ایک مفصل رسالہ لکھا۔ اس کے علاوہ مجالس النفائس نامی ایک ضخیم تذکرہ بھی مرتب کیا، جس میں ۴۵۰ چھوٹے بڑے ہم عصر شاعروں کے سوانحی خاکے درج ہیں۔ یہ مؤخرالذکر کتاب تیموری ثقافت کے کسی بھی مؤرخ کے لیے سونے کی کان سے کم نہیں ہے۔
البتہ، نوائی کی شاید سب سے زیادہ دل سے لکھی گئی اور جذبات کی حامل تحریر اُن کی سب سے آخری تصنیف محاکمۃ اللغتین تھی جو اُن کی وفات سے تیرہ ماہ قبل دسمبر ۱۴۹۹ء میں مکمل ہوئی تھی۔ اس تصنیف میں نوائی نے طویل مضمون کی شکل میں ترکی زبان کی زوردار وکالت کی ہے۔ دوسرے ترک الاصل مصنفوں کو فارسی کے بجائے چغتائی میں لکھنے کی ترغیب دینے کی امید میں انہوں نے اس نگارش میں اپنے زاویۂ نظر کے حوالے سے فارسی پر ترکی کی فطری برتریوں کو ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ اپنے پسندیدہ ترین موضوعِ گفتگو پر حتمی فیصلے کی نیت سے لکھی گئی نوائی کی محاکمۃ اللغتین ایک ایسی تصنیف کی بہت ہی کامل مثال ہے جو کسی مصنف کی آخری کتاب کے ساتھ ہی اُس کے آخری وصیت نامے کے مثل بھی ہو۔
اس تصنیف کی ابتداء میں نوائی یہ نظریہ پیش کرتے ہیں کہ اس دنیا میں زبانوں کی چار بنیادی انواع – یعنی عربی، فارسی، ترکی اور ہندی – ہیں اور ان میں سے ہر ایک اصل نوع کی ‘بہت ساری فروع ہیں۔’ چونکہ وہ ایک صادق الاعتقاد مسلمان تھے، اس لیے اپنے دینی عقیدے کے بموجب وہ دیگر زبانوں پر عربی کی مطلق برتری پر کوئی سوال نہیں اٹھاتے اور اس ضمن میں کہتے ہیں کہ "ان [تمام زبانوں] کے درمیان عربی آئینِ فصاحت کے لحاظ سے ممتاز اور تزئینِ بلاغت کے لحاظ سے معجزہ طراز ہے اور اس باب میں کسی اہلِ تکلم و صدق و تسلیم کو کسی قسم کا مجالِ دعویٰ نہیں ہے؛ کیونکہ کلامِ معجز نظامِ مَلِکِ علّام – جلّ و علا – اس زبان میں نازل اور احادیثِ سعادت انجامِ رسول – علیہ الصلواۃ والسلام – اس لفظ میں وارد ہوئی ہیں، اور اولیائے کبار و مشائخِ عالی مقدار – قدس اللہ اسرارہم – نے جو حقائق و معارف بیان کے ہیں اور جن معانیِ زیبا کو لباسِ تقریر پہنایا ہے، وہ جملہ اسی عبارتِ فرخندہ و الفاظ و اشاراتِ خجستہ صورت میں وقوع پذیر ہوئے ہیں۔” البتہ وہ اپنے نقطۂ نظر کے تحت مختصراً ہندی کو ‘شکستہ قلم کی خراش’ جیسی سنائی دینے والی اور اُس کے رسمِ خط کو ‘کوے کے قدموں کے نشان جیسا’ کہہ کر مسترد کر دیتے ہیں۔ عربی اور ہندی کے بارے میں رائے دینے کے بعد، ہرات اور پورے مسلم وسطی ایشیا میں بولی جانے والی دو زبانیں ترکی اور فارسی داوری کے لیے باقی رہ جاتی ہیں۔
محاکمۃ اللغتین میں نوائی نے مکرراً فارسی الفاظ کے بر خلاف ترکی الفاظ کی ثروتمندی، واضحیت اور اشتقاق پذیری پر زور دیا ہے۔ مثلاً وہ ہمیں آگاہ کرتے ہیں کہ ترکوں کی زبان میں عورت کے چہرے پر موجود زیبائی کے نشان کے لیے ایک خاص لفظ موجود ہے، لیکن فارسی زبان میں ایسا کوئی متبادل لفظ ناپید ہے۔ نوائی کے مطابق، کئی ترکی الفاظ کے تین، چار یا اس سے بھی زیادہ معانی ہیں جبکہ فارسی میں اس طرح کے لچک دار الفاظ کا فقدان ہے۔ ترکی زبان کی مختلف چیزوں کے مابین دقیق امتیاز کرنے کی قابلیت کو بیان کرنے کے لیے وہ ایسے نو ترکی الفاظ کی فہرست پیش کرتے ہیں جو بطخوں کی مختلف انواع کی شناخت کے لیے استعمال ہوتے ہیں۔ لیکن فارسی کے بارے میں وہ ادعا کرتے ہیں کہ اس میں ان تمام انواع کے لیے ایک ہی لفظ موجود ہے۔ کتاب کا ایک کے بعد ایک صفحہ اسی طرح کے استدلالوں سے پُر ہے۔
نوائی اس بات کو قبول کرتے ہیں کہ فارسی کے مقابلے میں ترکی میں اچھا لکھنا زیادہ مشکل ہے۔ محاکمۃ اللغتین کے مندرجہ ذیل اقتباس میں اپنے ہم عصر نوجواں ترکی گو شاعروں کی راہ میں آنے والی رکاوٹوں کا ذکر کرتے ہوئے اور اُن شاعروں کے فنّی شش و پنج کی ہمدردانہ تفہیم ظاہر کرتے ہوئے نوائی لکھتے ہیں:
"بے شک، اس زبان میں موجود عجیب اور نادر معانی کا استعمال مبتدیوں کے لیے آغاز میں آسان کام نہیں ہے۔ اس طرح کی دشواریوں کے مقابل مبتدی شعراء [ترکی سے] منہ موڑ لیتے ہیں اور ایک آسان تر راہ [یعنی فارسی] کی جانب منتقل ہو جاتے ہیں، اور جب ایسا چند بار ہو جاتا ہے تو وہ اس حال کے خو گرفتہ ہو جاتے ہیں، اور پھر اُن کے لیے اس عادت کو ترک کر کے مشکل تر راستے پر آنا بہ سہولت امکان پذیر نہیں رہتا۔ بعدازاں، جب دوسرے مبتدی اپنے متقدموں کے طرزِ عمل اور تالیفات کو دیکھتے ہیں تو وہ بھی اس راہ سے منحرف ہونا مناسب نہیں سمجھتے۔ نتیجتاً وہ بھی اپنی نظمیں فارسی میں لکھتے ہیں۔
مبتدیوں کے لیے یہ بات فطری ہے کہ جو کچھ انہوں نے لکھا اور کہا ہے وہ اُسے اہلِ فن اور اساتذہ کو دکھانا پسند کرتے ہیں، اور جملہ صاحبانِ قلم کی یہی عادت ہے۔ لیکن چونکہ اس فن کے اساتذہ فارسی گو ہیں اور وہ کلامِ ترکی سے بہرہ مند نہیں ہیں، لہٰذا جوانانِ ترک بھی فارسی کی طرف ملتفت ہو کر اسی میں سخن سرائی کرنے لگتے اور اسی خیل کا حصہ بن جاتے ہیں۔”
لیکن وہ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے کہتے ہیں کہ تمام رکاوٹوں کے باوجود ترک الاصل شاعروں کو ترکی میں لکھنے کی کوشش کرنی چاہیے۔ شاید مبتدی مصنفوں کی حوصلہ افزائی کی غرض سے، کتاب میں نوائی حکایت کرتے ہیں کہ کیسے اُنہوں نے اپنے ایامِ جوانی میں ترکی کی ناقابلِ توصیف شان و شوکت کو دریافت کیا تھا:
"بدقسمتی سے یہ بات حقیقت ہے کہ شاعری کے ذریعے کے طور پر فارسی کے مقابلے میں ترکی کی فوقیت، عُمق اور وسعت کی جانب ہر کوئی متوجہ نہیں ہوا ہے۔۔۔ یہ خاکسار اوائلِ شباب میں تھا جب میرے صندوقِ جواہرات جیسے دہن سے کچھ گوہر ظاہر ہونا شروع ہوئے۔ یہ گوہر، ہنوز سلکِ نظم میں داخل نہیں ہوئے تھے لیکن اس غوّاص طبع کی سعی سے دریائے ضمیر سے وہ گوہر ساحلِ دہن تک پہنچنے لگے جو سلکِ نظم میں پروئے جانے کے قابل تھے۔
چونکہ میں عاداتِ مذکورہ سے خود کو بری کرنا نہیں جانتا تھا اس لیے میں بھی اُسی طرح فارسی میں سخن سرائی کرتا رہا۔ لیکن جس وقت میں نے سنِ تعقل و شعور میں قدم رکھا تو حق سبحانہ وتعالیٰ نے مجھے غرابت الطبع، دقت نظری اور مشکل پسندی کی خصلتیں ودیعت کیں۔ [لہٰذا] مجھے ترکی الفاظ میں غور و فکر کرنا لازم نظر آیا۔ [اس کے نتیجے میں] میری آنکھوں کے سامنے ایک عالم ظاہر ہوا جو اٹھارہ ہزار عالموں سے بزرگ تر تھا، اور جس کے سپہر کی زیب و زینت فلک کی نو کرسیوں سے برتر تھی، اور جس کے مخزنِ رفعت و فضل کے جواہرات کواکب سے رخشاں تر تھے۔ میں اس عالم کے گلزار میں، جس کے گُل اخترانِ سپہر سے درخشندہ تر تھے، گلگشت کے لیے داخل ہوا۔ اس باغ کے حریم کی اطراف قدموں کی گذرگاہ سے محفوظ، جبکہ اس کی نادر اجناس اغیار کی دسترس سے مامون تھیں۔”
میر علی شیر نوائی کا انتقال ۳ جنوری ۱۵۰۱ء کو ہوا۔ سلطان حسین بایقرا نے جنازے میں شرکت کی اور بعد ازاں اپنے عمر بھر کے دوست کے لیے تین دن سوگ منایا۔ شہر میں ایک بہت بڑی عزائی تقریب منعقد کی گئی تاکہ ہرات کے تمام باشندے اپنے فوت شدہ ملک الشعراء کو اجتماعی طور پر خراجِ تحسین پیش کر سکیں۔
تقریباً اس کے فوراً بعد ہی دوسرے مصنفوں نے بھی ادبی ترکی کا معیار اپنا لیا۔ مغل سلطنت کے بانی اور تیمور و چنگیز دونوں کے خلف ظہیرالدین بابر (۱۴۸۳-۱۵۳۰ء) نے اپنی مشہورِ زمانہ سوانحِ عمری چغتائی زبان میں لکھی تھی۔ دوسری جانب مغربی سمت میں واقع عثمانی سلطنت میں عثمانی ترکی میں لکھنے والے مصنفوں نے نوائی کی تالیفات کا عرق ریزی کے ساتھ مطالعہ کیا اور اُن کی نظموں کو بطور نمونہ پیشِ نظر رکھ کر اپنی شاعری کہی۔ ہرات کے اس بلبل نے اگرچہ ترکی کے ایک مختلف لہجے میں اپنی تصنیفات تحریر فرمائی تھیں، لیکن اس میں کوئی شک و شبہہ نہیں ہے کہ اُن کی تالیفات ہی عثمانی شاعری کے ارتقاء و تکامل کا محرّک بنیں۔ نوائی نے آذربائجانی شاعر فضولی بغدادی (متوفی ۱۵۵۴ء) پر بھی بہت گہرا اثر ڈالا تھا، جو کہ صدیوں سے پوری ترکی گو دنیا کا محبوب ترین شاعر رہا ہے۔ عظیم عثمانی اور آذری شعراء کے منصۂ شہود پر آنے سے ترکی زبان کا اسلام کی تیسری کلاسیکی زبان ہونے کا درجہ راسخ ہو گیا۔
وسطی ایشیا ہی کی بات کی جائے تو وہاں چغتائی زبان و ادب کے بے ہمتا استاد کے طور پر نوائی کی شہرت مسلّم رہی، اور مرورِ زمانہ کے ساتھ اُن کی قدر و منزلت ہی میں اضافہ ہوا۔ نوائی کی وفات کے چار سو سال بعد تک چغتائی زبان وولگا سے لے کر چینی ترکستان کے مسلمان ترکوں کی ادبی زبان کے طور پر خدمات انجام دیتی رہی۔ اس پورے دورانیے میں چغتائی کی قدامت پسندی کی ایک بنیادی وجہ یہ تھی کہ چغتائی زبان کا کوئی ادیب نوائی سے بڑھ کر باوقار ہونے اور اثر و رسوخ رکھنے میں کامیاب نہ ہو سکا تھا، نیز تمام ادباء ہی نوائی کے اسلوب اور ذخیرۂ الفاظ کی نقل کرنے پر مائل رہتے تھے۔ لیکن انجامِ کار، چغتائی زبان کی افادیت کم ہو گئی، اور اس نے اپنی دختر زبانوں – یعنی وسطی ایشیا کی جدید ترک زبانوں مثلاً ازبکی، قزاقی، قرغیزی اور مشرقی ترکی (جسے جدید اویغری کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) – کے لیے راستہ صاف کر دیا اور خود کنارہ کش ہو گئی۔ چغتائی کی جگہ پر اُس کی دختروں کا تخت نشیں ہونا ایسا ہی ہے جیسے یورپ میں پچھلی صدیوں میں لاطینی کے مقام پر اُس کی دختر زبانیں فرانسیسی، اطالوی، ہسپانوی اور پرتگالی وغیرہ متمکّن ہو گئی تھیں۔
البتہ نوائی کی کہانی اس صدی کے اوائل میں ہونے والی چغتائی کی وفات پر ہرگز ختم نہیں ہوتی۔ بلکہ اب تو اُن کی کہانی کا ایک نیا باب لکھا جا رہا ہے،  اور اس کی وجہ وہ غیر معمولی تعظیم ہے جو سوویت اتحاد، افغانستان اور چین کے مسلمان ازبک اس شاعر کی کرتے ہیں۔ اگر نوائی بالعموم تمام ترکوں کے چوسر ہیں، تو وہ ترکوں کے اس مخصوص گروہ کے لیے چوسر، دانتے، سیروانتیس اور شیکسپئر سب ہی کچھ ہیں۔
چین اور سوویت اتحاد کے مسلم اویغروں کی زبان مشرقی ترکی کے ہمراہ ازبکی ہی وہ جدید زبان ہے جو کلاسیکی چغتائی سے سب سے زیادہ قرابت رکھتی ہے۔ ازبک لوگوں نے نوائی کو اپنے قومی شاعر کے طور پر منتخب کر لیا ہے، اور سوویت اتحاد میں چغتائی کو عموماً ‘قدیم ازبکی’ کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ۱۹۶۶ء میں جب نوائی کی پیدائش کی ۵۲۵ویں برسی تھی تو اُس موقع پر ازبکستان میں سرکاری سطح پر اور دل کی گہرائیوں سے اس شاعر کا جشن منایا گیا تھا۔ اسی ازبکستان ہی میں اسلامی تمدن کے یہ پانچ تاریخی مراکز موجود ہیں: تاشقند، سمرقند، بخارا، خوقند اور خیوہ۔ شاعر کی تجلیل اور اُن کے جملہ آثار تک دسترس آسان بنانے کی غرض سے اُن کی تمام تصنیفات پندرجہ جلدوں میں ازبک دارالحکومت تاشقند میں شائع ہوئی تھیں۔ اُن کی انفرادی کتابیں اور رسالوں کی کئی اشاعتیں اور منتخب تحریروں کے کئی مجموعے چھپ چکے ہیں اور اس پورے زمانے میں نوائی کی زندگی پر مبنی کئی ناول اور تمثیلیں اور اُن سے تعلق رکھنے والی بے شمار تحقیقاتی اور سوانحی کتابیں بھی لکھی جا چکی ہیں۔
لیکن ان سب کے باوجود ہمیں یہ بالکل نہیں بھولنا چاہیے کہ نوائی صرف ازبکوں ہی کی اختصاصی ملکیت نہیں ہے، بلکہ جہاں کہیں بھی مسلمان ترک پائے جاتے ہیں – خواہ وہ ترکی کا استانبول ہو، خواہ ایران کا تبریز ہو، خواہ تاتارستان کا قازان ہو، خواہ وسطی ایشیا کا تاشقند ہو یا خواہ چینی ترکستان کا اورومچی ہو؛ اور خواہ یہ شہر ایک دوسرے سے کتنے ہی دور یا مختلف کیوں نہ ہوں – وہاں نوائی کی وفات کے تقریباً پانچ سو سال بعد بھی اُن کی شاعری سے اُسی طرح لطف اٹھایا جاتا ہے۔ اپنے پیشروؤں دانتے اور چوسر کی طرح، نوائی نے بھی تنِ تنہا ہی ایک زبان کو قابلِ احترام بنایا اور اسے دنیا کے اہم ادبوں کی صف میں لا کر کھڑا کیا تھا۔ ہمارے لیے ایسا کوئی بھی آئندہ زمانہ تصور کرنا ناممکن ہے جب نوائی کی تالیفات کا مطالعہ ختم ہو جائے گا، اور یہ بات جتنی دانتے اور چوسر کے حق میں درست ہے، اُسی طرح نوائی پر بھی کاملاً صادق ٹھہرتی ہے۔

(نویسندہ: بیری ہابرمین)

یہ مضمون سعودی آرامکو ورلڈ مجلّے کے جنوری/فروری ۱۹۸۵ء کے شمارے میں چھپا تھا جس کا میں نے اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اگر ترجمے میں کوئی خامی نظر آئے یا کوئی اور تجویز ہو تو ضرور گوش گزار کیجیے گا۔ اصل انگریزی مضمون یہاں سے پڑھا جا سکتا ہے۔