ڈیڑھ سو سال قبل ماوراءالنہر و تُرکستان کی لسانی صورتِ حال

"تاجِکان فارسی کا ایک زبانچہ بولتے ہیں، جو اطراف کے تُرکی زبانچوں سے بِسیار زیادہ مُتاثر ہے، اور جس نے کئی تُرکی الفاظ قبول کر لیے ہیں۔ مع ہٰذا، اِس زبانچے میں ایسے کئی آریائی الفاظ محفوظ رہ گئے ہیں جو جدید فارسی میں استعمال نہیں ہوتے، اور یہ چیز اِن خِطّوں میں اِس [تاجک] نسل کے طویل دوام کا ایک ثبوت ہے۔ اُزبکوں کی قلیل تعداد [ہی] ‘تاجِک’ بولتی ہے، لیکن بیشتر تاجِکان تُرکی بولتے ہیں، جو اُزبکوں کی زبان ہے۔ تُرکی کا جو زبانچہ یہاں بولا جاتا ہے وہ چند یورپی عالِموں میں جَغَتائی کے نام سے معروف ہے، اگرچہ وسطی ایشیا میں اب چند افراد ہی یہ نام جانتے ہیں۔ اگر کسی مقامی شخص سے پوچھا جائے کہ وہ کون سی زبان بولتا ہے تو وہ جواب میں یا تو یہ کہے گا کہ "میں تُرکی بولتا ہوں”، یا پھر کہے گا "اُزبک زبان”۔ میرا ماننا ہے کہ اِس زبانچے کو جَغَتائی کا نام فارْسوں نے دیا تھا کیونکہ ایشیا کے اِس خِطّے کے اُزبک قبائل فارسی تاریخ نویسوں میں ‘مردُمِ جَغَتائی’ کے نام سے جانے جاتے تھے، اور یہ چنگیز خان کے پِسر کا نام تھا جس کو یہ خِطّہ سونپا گیا تھا۔ چونکہ بیشتر تاجِکان، بجُز اُن ضِلعوں میں جہاں صرف وہ ہی مُقیم ہیں، تُرکی بولتے ہیں، لہٰذا اِس زبان کے ساتھ وسطی ایشیا میں کہیں بھی جایا جا سکتا ہے۔ لیکن در عینِ حال، ‘تاجِک’ نزاکت و ثقافت کی زبان ہے، جس میں بیشتر تحریریں اور تمام سرکاری و رسمی دستاویزات لِکھی جاتی ہیں۔”

(تُرکستان: رُوسی تُرکستان، خوقند، بُخارا اور قولجہ میں سفر کی یادداشتیں، جلدِ اوّل، صفحہ ۱۰۹، یُوجین شُوئلر، ۱۸۷۶ء)

مُترْجِم: حسّان خان

× ‘تاجِک’ سے ماوراءالنہری فارسی مُراد ہے، جبکہ ‘جدید فارسی’ مُصنِّف نے جدید ایرانی فارسی کے مفہوم میں استعمال کیا ہے۔

× کتاب کا انگریزی نام:
Turkistan: Notes of a Journey in Russian Turkistan, Khokand, Bukhara, and Kuldja – Eugene Schuyler

Advertisements

مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کی ملّی و اسلامی زبان

۱۹۱۲ء میں طباعت کا آغاز کرنے والے وسطی ایشیا کے اولین فارسی نشریے ‘بخارائے شریف’ نے اپنے شمارۂ پانزدہم میں فارسی کو ‘مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کی ملّی و اسلامی زبان’ کہہ کر یاد کیا تھا:
"۔۔۔۔امارتِ بخارا دارای سه میلیون نفوس است، تا اکنون اهالیِ ترکستان و ماوراءالنهر یک روزنامه به زبانِ ملی و اسلامیِ خود نداشتند. حالا از غیرت و همتِ ملت‌پسندانهٔ چند نفر معارف‌پرور و ترقی‌خواهانِ بخارای شریف این رونامهٔ مسمّیٰ به ‘بخارای شریف’ به زبانِ فارسی، که زبانِ رسمیِ بخارا هست، تأسیس شده و از عدم به وجود آمده و به طبع و نشرِ آن اقدام نموده شد. حالا برای ۹-۱۰ میلیون نفوسِ اسلامیهٔ ترکستان و ماوراءالنهر همین یک روزنامه است و فقط.”
ترجمہ: "۔۔۔۔۔امارت بخارا کی آبادی تیس لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، [لیکن] تا حال مردمِ ترکستان و ماوراءالنہر کا اپنی ملی و اسلامی زبان میں کوئی روزنامہ نہیں تھا۔ اب شہرِ بخارائے شریف کے چند معارف پرور و ترقی خواہ نفور کی ملت پسندانہ غیرت اور کوشش سے یہ ‘بخارائے شریف’ نامی روزنامہ فارسی زبان میں، کہ بخارا کی رسمی زبان ہے، تأسیس ہوا ہے اور عدم سے وجود میں آیا ہے اور اِس کے طبع و نشر کے لیے اقدامات کیے گئے ہیں۔ حالا ترکستان و ماوراءالنہر کے ۹۰-۱۰۰ لاکھ نفوسِ اسلامیہ کے برائے یہی ایک روزنامہ ہے اور بس۔”
ماخذ

سلام بر تو، ای زبانِ من!
سلام بر تو، ای شهرِ بخارای شریف!


روزِ عرسِ بیدل

روزِ عرسِ بیدل:
روز چهارم ماه صفر یکی از روزهای‌ برجستهٔ تاریخ ادبیات افغانستان به شمار می‌آید و به نام "روز عرس بیدل” معروف است. این روز در غالب کشور‌های آسیای میانه که با ادبیات دری انس و الفت دارند و ادبیات مشترکشان به شمار می‌آید با مراسم خاصی تجلیل می‌شود. در تاجکستان و ازبکستان و سایر بلاد ماوراءالنهر علاقهٔ زیادی به حضرت بیدل ابراز می‌شود و در این روز از او یادبود می‌کنند و آن را "روز عرس میرزا” می‌نامند. در نیم‌قارهٔ هند و پاکستان نیز ارادت مخصوصی به وی ورزیده می‌شود و صدرالدین عینی در کتاب خود به نام "میرزا عبدالقادر بیدل” می‌نویسد که در ایام باستان در شاه‌جهان‌آباد "دهلی امروز” در این روز نخست کلیات بیدل را که به خط خودش ترتیب شده بود برآورده به خانهٔ وی در آنجا که مرقد او پنداشته می‌شود در میان می‌گذاشتند و از آثار او برمی‌خواندند، بر آن بحث می‌کردند. در افغانستان نیز همواره یک محبت و عشق مفرطی به بیدل و آثارش موجود بوده‌است. نظم و نثر بیدل خوانده می‌شود، اشعارش به حیث شاهد قول ذکر می‌شود، به تصوف و روحانیت وی مردم معتقدند، اهل دل و اهل عرفان به وی ارادت‌ها می‌ورزند، نام او را به تکریم می‌برند، غالباً حضرت بیدل و حضرت میرزا می‌گویند، در مکتب‌ها و مدارس آثار او تدریس می‌شود، شعر و نثر او مورد بحث و فحص قرار می‌گیرد و بالآخره روز عرس وی در محافل مختلف و مجامع با ذکر بیدل و قرائت آثارش برگزار می‌شود و این از سال‌ها در این مملکت که منبع و مهد زبان و ادبیات دری است معمول است.

کتاب: تاریخِ ادبیاتِ افغانستان
مصنف: محمد حیدر ژوبل
سالِ اشاعت: ۱۹۵۷ء

روزِ عرسِ بیدل:
ماہِ صفر کے روزِ چہارم کا شمار ادبیاتِ افغانستان کی تاریخ کے ایک ممتاز دن کے طور پر ہوتا ہے اور یہ دن ‘روزِ عرسِ بیدل’ کے نام سے معروف ہے۔ ادبیاتِ فارسی سے اُنس و الفت رکھنے اور اسے اپنا مشترک ادب شمار کرنے والے اکثر وسطی ایشیائی ملکوں میں یہ روز خاص مراسم کے ساتھ تجلیل کیا جاتا ہے۔ تاجکستان، ازبکستان اور دیگر بلادِ ماوراءالنہر میں حضرتِ بیدل سے بہت زیادہ دل بستگی کا اظہار کیا جاتا ہے اور اس روز اُن کی یاد منائی جاتی ہے اور اسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کا نام دیا جاتا ہے۔ برِ صغیرِ ہند و پاکستان میں بھی اُن سے خاص ارادت کا اظہار ہوتا ہے اور صدرالدین عینی اپنی ‘میرزا عبدالقادرِ بیدل’ نامی کتاب میں لکھتے ہیں کہ قدیم ایام میں شاہ جہاں آباد، یعنی دہلیِ امروز، میں اِس روز اولاً کلیاتِ بیدل کے اُس نسخے کو، کہ جو اُن کے اپنے خط سے مرتب ہوا تھا، لا کر اُن کے گھر میں اُس جگہ کہ جہاں اُن کی مرقد ہونے کا گمان کیا جاتا ہے، بیچ میں رکھا کرتے تھے اور اُن کی تالیفات میں سے قرائت اور اُس پر بحث کیا کرتے تھے۔ افغانستان میں بھی بیدل اور اُن کی تالیفات سے ایک از حد زیاد عشق و محبت موجود رہا ہے۔ بیدل کی نظم و نثر پڑھی جاتی ہے، اُن کے اشعار شاہدِ قول کی حیثیت سے ذکر ہوتے ہیں، لوگ اُن کے تصوف و روحانیت کے معتقد ہیں، اہلِ دل و اہلِ عرفان اُن کے ارادت مند ہیں، اُن کا نام تکریم سے لیتے ہیں، زیادہ تر اُنہیں حضرتِ بیدل اور حضرتِ میرزا کہہ کر یاد کرتے ہیں، مکاتب و مدارس میں اُن کی تالیفات کی تدریس ہوتی ہے، اُن کی شاعری و نثر بحث و فحص کا مورد بنتی ہے اور بالآخر اُن کا روزِ عرس مختلف محفلوں اور مجمعوں میں بیدل کے ذکر اور اُن کی تالیفات کی قرائت کے ساتھ منعقد ہوتا ہے اور یہ سالوں سے اس مملکت میں کہ جو زبانِ و ادبیاتِ فارسی کا منبع اور گہوارہ ہے، معمول ہے۔

===========

"در زمانِ پیشتره، خصوصا‌ً در هندوستان، در خانهٔ خود دفن کرده شدنِ دانشمندانِ کلان عادت بود. بنا بر این در صحنِ خانهٔ خود مدفون شدنِ این فیلسوفِ بزرگ جای تعجب نیست.
کلیاتِ آثارِ این سخنورِ دانش‌گستر، که با دست‌خطِ خود ترتیب داده بود، در خانهٔ خودش محفوظ بود. هر سال در روزِ وفاتش، که این روز را ‘روزِ عرسِ میرزا’ می‌نامیدند، شاعران و دانشمندانِ شاه‌جهان‌آباد به سرِ قبرش غن می‌شدند، آن کلیات را برآورده در میانهٔ مجلس گذاشته می‌خواندند و محاکمه می‌کردند و به این واسطه، آن ‘دلِ در پیکرِ سخن حرکت‌کننده را’ یادآوری می‌نمودند.”

کتاب: میرزا عبدالقادرِ بیدل
نویسندہ: صدرالدین عینی
سالِ اشاعت: ۱۹۵۴ء

"گذشتہ زمانے میں، خصوصاً ہندوستان میں، عظیم دانشمندوں کو اپنے گھر میں دفن کرنے کا رواج تھا۔ لہٰذا اِن بزرگ فلسفی کا اپنے گھر کے صحن میں مدفون ہونا تعجب کی بات نہیں ہے۔
اِن سخنورِ دانش گُستر کی کلیاتِ آثار، کہ جسے اُنہوں نے اپنے خط سے مرتّب کیا تھا، اُن کے اپنے گھر میں محفوظ تھی۔ ہر سال اُن کی وفات کے روز، کہ جسے ‘روزِ عرسِ میرزا’ کہا جاتا تھا، شاہ جہاں آباد کے شاعر اور دانشمند اُن کی قبر کے کنارے جمع ہوتے تھے، اُس کلیات کو باہر لا کر اور مجلس کے درمیان رکھ کر پڑھتے تھے اور بحث و گفت و شنید کرتے تھے اور اس ذریعے سے اُس ‘پیکرِ سخن میں حرکت کرنے والے دل’ کو یاد کیا کرتے تھے۔”

× ‘غُن/ғун’ ماوراءالنہری فارسی کا علاقائی لفظ ہے۔
× دانش گُستر = دانش پھیلانے والا


قرغیز دارالحکومت بشکیک میں سعدی شیرازی کو یاد کیا گیا

اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کی جانب سے ‘یومِ سعدی’ کی مناسبت سے قرغیزستان کے عالموں، شاعروں، اور سرکاری و عوامی شخصیات کی معیت میں ایک علمی و ادبی محفل کا انعقاد کیا گیا جس میں سخن سرائے بے نظیرِ تاجک و فارس شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کے آثار و روزگار کے گوناگوں پہلوؤں کے بارے میں اظہارِ نظر کیا گیا۔
اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کے رئیس اکبر رِسقُلوف نے اس نشست کے افتتاح کے ضمن میں تاجک/فارس ثقافت و ادبیات کو عالمی میدان میں اہم مقام کا حامل بتلایا اور اس تمدن کے بزرگوں کی تالیفات کے قرغیزی زبان میں ترجمے اور نشر کی ضرورت کی جانب اشارہ کیا۔
استاد رودکی کے نام پر قائم انجمنِ تاجکانِ قرغیزستان کے نائب رئیس اور تاجک نشریے ‘پیامِ الاتاؤ’ کے مدیرِ اعلیٰ قادرشاہ مروت نے حاضرین کے سامنے تاجکستان میں شیخ سعدی کی تالیفات کی تعلیم اور نشر کے مورد میں گفتگو کی۔ اُنہوں نے معاصر تاجکستانی معاشرے میں ان بزرگ شاعر و عارف کی حیثیت کو گراں بہا پکارتے ہوئے اس بات کی تاکید کی کہ تاجکستان میں طفلِ مکتب خواں سے لے کر شہر و دیہات کے بزرگ سالوں تک، ہر کوئی سعدی کے اشعار اور اُن کی شخصیت کو جانتا ہے اور دوست رکھتا ہے۔
اس محفل میں قرغیزستان کے تاجک دانشور عبدالحلیم رحیم جانوف نے ‘تالیفاتِ شیخ سعدی میں انسان دوستی’ کے موضوع پر خطاب کیا۔ نیز، قرغیزستان میں سفارتِ ایران کے ثقافتی شعبے کے رہبر علی کبریازادہ نے اس بات کا اظہار کیا کہ ایران کی مالی کمک سے حال ہی میں ‘گلستانِ سعدی’ اولین بار قرغیزی زبان میں ترجمہ اور نشر ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تالیف کا ترجمہ مشہور قرغیز مترجم کُوبانیچ بیک باسِل بیکوف کی کوششوں سے انجام کو پہنچا ہے اور اب قرغیز قارئین سعدی کی اس تالیف کو اپنی مادری زبان میں پڑھنے کا امکان رکھتے ہیں۔
قرغیزستان کے عوامی شاعروں حسن ژاکشِلیکوف اور مریم ابوالقاسم اووا، جمہوریۂ قرغیزستان کی روسی شاعرہ سویتلانا سُسلووا، اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کی رکن شائستہ روشن اور چند دیگر افراد نے شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی کی زندگی، اُن کے مقام، اُن کی تخلیقات کے مختلف پہلوؤں، اور اُن کی لازوال تالیفات کے قرغیز ادبیات پر اثر کے بارے میں سخن فرمایا اور تمام علاقہ مندانِ شعر و ادب کو یومِ سعدی کی تبریکات پیش کیں۔
بعد ازاں، دانشگاہِ بیشکک میں فارسی کی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ نے اس محفل میں ان شاعرِ بزرگ کی غزلوں کی اصل فارسی زبان میں قرائت کی۔
صدارتِ اتحادِ مصنفینِ قرغیزستان کے مشورے کے تحتِ نظر اس بات کا بھی فیصلہ کیا گیا کہ انجمنِ تاجکانِ قرغیزستان کی ہمکاری میں بہت جلد بشکیک میں معاصر تاجک شاعری پر گفتگو کرنے کے لیے ایک ادبی نشست منعقد کی جائے گی۔

ماخذِ خبر: تاجک اخبار ‘خاور’
تاریخ: ۲۴ اپریل ۲۰۱۵ء


مشہد میں امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا

امیر علی شیر نوائی کے ۵۸۴ویں یومِ ولادت کے موقع پر شاعر کی تالیفات، افکار اور خدمات پر گفتگو کے لیے آج سے مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا آغاز ہو گیا ہے۔
ادبیات، ترجمہ، دین و عرفان، سیاست، مکتبِ ہرات، زبان شناسی، علی شیر نوائی کی خدمات اور اسی طرح کے دیگر موضوعات سے مرتبط یہ مؤتمر صوبے، ملک اور منطقے کی مشہور شخصیات کی معیت میں آج صبح نو بجے سے شروع ہو گیا ۔
مؤتمر کے انعقاد کرنے والوں کے مطابق یہ مؤتمر ایران اور وسطی ایشائی ممالک کے درمیان ثقافتی، اجتماعی، سیاسی اور اقتصادی روابط کے فروغ کے ہدف کے ساتھ منعقد کیا جا رہا ہے تاکہ وسطی ایشیائی ممالک میں ثقافتی وحدت کی ایجاد میں اس شاعر و عارف کی تصنیفات، تفکرات اور ثقافتی خدمات کے کردار کو اجاگر کیا جا سکے۔ اس کے علاوہ، اس مؤتمر کے دیگر اہداف میں ایران اور وسطی ایشیائی ممالک کے درمیان ثقافتی روابط کے پیوند میں امیر علی شیر نوائی کے کردار کی تکریم اور شاعر پر تحقیقات کرنے والے منطقے کے محققوں کے درمیان گفتگو اور آراء کا تبادل شامل ہیں۔
علاوہ بریں، یہ طے پایا ہے کہ خاص نشستوں میں آج شام سے شرکائے مؤتمر کی جانب سے مقالات پیش ہونے شروع ہو جائیں گے۔ اور اس مؤتمر میں پیش کیے جانے والے منتخب تحقیقی مقالات بعد میں دو مجموعوں کی شکل میں شائع کیے جائیں گے۔
۱۶ رمضان ۸۴۴ ہجری کو اپنی آنکھیں کھولنے والے امیر علی شیر نوائی خطے کے ثقافتی و اجتماعی مفاخر میں سے ایک ہیں جنہوں نے عمرانی کاموں اور مشکلاتِ مردم کی برطرفی میں مشغول رہنے کے علاوہ دو زبانوں فارسی اور چغتائی ترکی میں وافر شعر گوئی بھی کی ہے۔
امیر علی شیر نوائی کا ترکی اشعار میں تخلص ‘نوائی’ جبکہ فارسی اشعار میں ‘فانی’ اور ‘فنائی’ تھا۔
نوائی فارسی گو شاعروں حافظ، سعدی، عطّار، جامی وغیرہ سے عشق کرتے تھے لیکن اُنہوں نے چغتائی ترکی کو بھی اپنے فنی اظہار کا ذریعہ بنایا۔
نوائی کے بعد چغتائی ترکی اور فارسی دونوں زبانوں میں شعر کہنا ایک ادبی روایت بن گیا اور ماوراءالنہر کا منطقہ فارسی اور چغتائی ادب کے محلِّ تخلیق میں تبدیل ہو گیا۔

ماخذِ خبر
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء

* مؤتمر = کانفرنس


تاشقند میں مولانا جامی کا چھ سو سالہ جشن

ازبکستان کے دارالحکومت تاشقند میں ۲۸ نومبر ۲۰۱۴ء کو مشرق زمین کے معروف و خوش کلام شاعر و مصنف مولانا نورالدین عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے ایک ادبی و ثقافتی محفل منعقد ہوئی۔ جمہوریۂ ازبکستان کے بین الاقوامی ثقافتی مرکز کے اساسی ایوان میں برپا ہونے والی اس محفل میں اہلِ علم و ادب، شاعروں، نویسندوں، استادوں اور طالب علموں، اور ازبکستان میں مقیم تاجکستانی سفارت کے نمائندوں نے شرکت کی۔
اس باشکوہ مجلس کے شرکاء نے تمدنِ انسانی کے خزینے میں اضافہ کرنے والے اور یادگار کے طور پر نیک نام چھوڑنے والے اس زبردست ادیب و عالم کی شائستہ خدمات کو بہت اہم بتلایا۔ عالمی ثقافت کی غنی سازی میں اور (اُن کے تربیتی و اخلاقی شاہکار ‘بہارستان’ کے حوالے سے) تربیتی مقاصد کی تشکیل میں اس نابغۂ سخن کے کردار کی بہت بلند درجے میں قدر دانی کی گئی۔ انسانِ کامل کے وصف میں اور مختلف طبقوں کے انسانوں کی منفعت کی خاطر تحریر شدہ مولانا عبدالرحمٰن جامی کی جملہ تالیفات، اور اسی طرح اعلیٰ دنیاوی اقدار – مثلاً انسان پروری، وطن دوستی، صادقانہ رفاقت، اور مختلف قوموں کے مابین ہم سازی و ہم بستگی – کی برقراری میں اس سخنور کے نقشِ شایاں کی شرح و تفسیر کی گئی۔ معاشرے کے مقدس ترین فرد ‘زنِ مادر’ کی فضیلت کے حامی ان شاعر کے آثارِ منظوم مندرجہ ذیل مصرعوں کے ہمراہ موردِ ستائش قرار پائے:
سر ز مادر مکش که تاجِ شرف
گردی از راهِ مادران باشد
خاک شو زیرِ پای او که بهشت
در قدمگاهِ مادران باشد
مکاتب کے بچوں نے مولانا عبدالرحمٰن جامی کی گوناگوں نوعی اور مضامین سے پُر تصنیفات اور اُن کی گراں قدر تالیفات میں سے چند حصوں کی قرائت کی۔ ازبکستان کی معروف و ممتاز فارسی گو گلوکاراؤں منیرہ محمد اور گل چہرہ بقا نے اپنے دلنشین سرودوں سے محفل کو خاص شکوہ و رنگ بخشا۔
اسی طرح، مولانا عبدالرحمٰن جامی کے چھ سو سالہ جشن کی مناسبت سے رواں سال ازبکستان میں ‘رسالۂ عروض’ اور ‘عبدالرحمٰن جامی‌نینگ ایجاد عالمی’ نامی کتابیں فارسی اور ازبکی زبانوں میں نشر ہوئیں، جن میں شاعروں، مصنفوں اور دیگر اہلِ علم و ثقافت کے مقالات جمع کیے گئے ہیں۔
ازبکستان میں تاجکستان کے سفیر مظفر حُسین نے دو برادر اقوام تاجکوں اور ازبکوں کے درمیان روایتی اور دوستانہ روابط کی برقراری میں اس گوہرشناس ادیب کے عالی کردار کی بھی بڑی قدر دانی کی۔ تاجکستان کے اعلیٰ حکام کی جانب سے مولانا عبدالرحمٰن جامی کی قدردانی پر بات کرتے ہوئے اُنہوں نے خصوصی طور پر تاجکستان کے صدر کی طرف سے ۲۰۱۴ء کے سالِ عبدالرحمٰن جامی کے طور پر اعلان کیے جانے کا تذکرہ کیا اور ساتھ ہی ملک میں اور ملک سے باہر اس سلسلے میں برپا کی جانے والی مختلف محافل اور کوششوں کا تاکیداً ذکر کیا۔ انہوں نے اس طرح کی مشترک علمی و ادبی محفلوں کو زمانے کے تقاضوں کا جوابدہ نام دیا۔ ساتھ ہی یہ کہا گیا کہ یہ ثقافتی نشستیں دو ہم جوار ملکوں کے لوگوں کو نزدیک کرتی ہیں اور ساتھ ہی دوجانبہ دوستانہ تعلقات کی استواری و ترویج کے راستے میں پُل کے طور پر خدمات انجام دیتی ہیں۔

(منبع: تاجک اخبار ‘خاور’)
خبر کی تاریخ: ۲ دسمبر ۲۰۱۴ء


امیر علی شیر نوائی پر ادبیاتِ فارسی کا اثر

"وسطی ایشیائی ترکی گویوں کے ادبیات کی عظیم شخصیات میں ایک چہرۂ دیگر امیر علی شیر نوائی کا ہے، کہ جو دیوانِ ترکی کے علاوہ ایک دیوان فارسی زبان میں بھی رکھتے ہیں جس میں اُن کا تخلص ‘فانی’ ہے۔ یہ معروف شاعر، قرنِ نہمِ ہجری کے بزرگ ترین اور عالم ترین فارسی گو شاعر نورالدین عبدالرحمٰن جامی کے ہم عصر تھے اور ملا جامی کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ نیز، انہوں ہی نے جامی کی شرحِ حال میں ‘خمسۃ المتحیرین’ کے نام سے ایک کتاب چغتائی ترکی میں تحریر کی تھی۔
اگر ہم نوائی کی تالیفات پر از روئے انصاف نظر ڈالیں، تو ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے ترکی زبان میں اپنے عصر کی اُن تمام ادبی اصناف میں سخن آفرینی کی ہے جو ادبیاتِ فارسی میں رائج رہی ہیں اور اس سلسلے میں وہ وافر کمالات حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ مثنوی ‘حیرت الابرار’ میں کہتے ہیں:
اُول صفا اهلی پاک فرجامی
پاک فرجام و پاکفر جامی
اُول یقین ساری دستگیر منگا
قبله و اوستاد و پیر منگا
نوائی کے جو اشعار ہم نے پیش کیے ہیں اُن سے ظاہر ہے کہ وہ عبدالرحمٰن جامی کے احترام کے کس حد تک قائل تھے۔ وہ ان اشعار میں جامی کو اپنا استاد، پیر اور قبلہ پکار کر اُن کی عظمت میں رطب اللسان ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس کے مقابل میں مولانا جامی نیز اُن سے کامل محبت رکھتے تھے اور در حقیقت ان دو بزرگوں کے مابین رابطہ، شمس تبریزی اور مولانا جلال الدین محمد بلخی رومی کے باہمی ارتباط کی طرح تھا۔ اگر کوئی تفاوت تھا تو وہ یہ تھا کہ شمس اور مولانا رومی دونوں ایرانی تھے جبکہ نوائی اور جامی میں سے اول الذکر ترک اور ثانی الذکر تاجک تھے۔
علی شیر نوائی کی تالیفات پر جامی کی تصنیفات، اور بالعموم فارسی ادبیات کے اثر کے موضوع پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن میں بطورِ مثال نوائی کے ایک شعر کو لانے اور اُس شعر کے ایک فارسی گو شاعر کے شعر سے موازنہ کرنے ہی پر اکتفا کر رہا ہوں:
عارضین یاپغاچ کؤزیمدین ساچیلور هر لحظه یاش
اؤیله کیم پیدا بؤلور یولدوز، نهان بؤلغاچ قویاش
یہ مندرجہ بالا شعر کمال خجندی کے ایک بیت کے مضمون کی کاملاً تکرار ہے:
تا رخ نپوشد کی شود از دیده اشکِ ما روان
پنهان نگشته آفتاب اختر نمی‌آید برون
(اردو ترجمہ:جب تک وہ اپنا رخ پوشیدہ نہ کر لے اُس وقت تک آنکھ سے ہمارے آنسو کیسے رواں ہو سکتے ہیں؟ جب تک آفتاب پنہاں نہ ہو جائے، اُس وقت تک ستارہ باہر نہیں آتا۔)
اس طرح اس بات کی بھی یاد آوری کرنی چاہیے کہ ‘خمسۂ نوائی’ میں بھی شاعر نے موضوع اور اسلوب دونوں کے لحاظ سے حکیم نظامی گنجوی اور امیر خسرو دہلوی کے ‘خمسوں’ کی پیروی کی ہے۔
نوائی کی تالیفات میں شیخِ اجل سعدی شیرازی کی کتابوں ‘گلستان’ اور ‘بوستان’ کے مضامین کا بھی فراواں استعمال ہوا ہے اور اُن کے جملہ آثار میں لسان الغیب خواجہ حافظ شیرازی کی غزلوں کا اثر بخوبی مشہود ہے۔”

(صَفَر عبداللہ کی کتاب ‘نورِ سخن’ میں شامل مضمون ‘نقشِ ادبیاتِ فارسی در شکل گیریِ ادبیاتِ اقوامِ ترکی زبانِ آسیائے مرکزی’ سے اقتباس اور ترجمہ)