اقبال – علی اکبر دهخدا

اقبال

در روز اول اردیبهشت ماه/ ۱۳۳۰ در مجلس جشنی که به عنوان بزرگداشت اقبال لاهوری شاعر و اندیشه‌ور نامی پاکستان در سفارت آن کشور تشکیل شده بود، هیأت فرهنگی پاکستان رباعی زیر را به حضور دهخدا تقدیم می‌دارد:
"صد شکر که یارِ آشنا را دیدیم / سرحلقهٔ زمرهٔ وفا را دیدیم – سرمستِ تجلّیِ الاهی گشتیم / آن روز که رویِ دهخدا را دیدیم.”
و استاد نیز مرتجلاً قطعهٔ زیر را می‌سراید و عرضه می‌دارد:
زان گونه که پاکستان با نابغهٔ دوران
اقبالِ شهیرِ خویش بر شرق همی‌نازد،
زیبد وطنِ ما نیز، بر خویش همی‌بالد
واندر چمنِ معنی، چون سرو سرافرازد
زان روی که چون اقبال خواهد که سخن گوید
گنجینهٔ قلبِ خود با گفته بپردازد
از بعدِ وطن‌تاشان، کس را بجز ایرانی
شایسته نبیند تا، با وی سخن آغازد
دُرهایِ ثمینِ خود در دُرجِ دری ریزد
از پهنهٔ این میدان جولان‌گهِ خود سازد

ترجمہ:
۲۲ اپریل ۱۹۵۱ء کے روز پاکستانی سفارت خانے میں پاکستان کے مشہور شاعر اور مفکر اقبال لاہوری کی یاد میں منعقد ہونے والی مجلسِ جشن میں پاکستانی ثقافتی دستے نے دہخدا کے حضور میں یہ رباعی پڑھی:
صد شکر کہ ہم نے یارِ آشنا کو دیکھا؛ سرحلقۂ زمرۂ وفا کو دیکھا؛ ہم تجلیِ الٰہی سے سرمست ہو گئے؛ جس روز کہ ہم نے چہرۂ دہخدا کو دیکھا۔”
استاد دہخدا نے بھی فی البدیہہ مندرجۂ ذیل قطعہ کہا اور پیش کیا:
جس طرح پاکستان نابغۂ دوران یعنی اپنے مشہور و نامدار اقبال کے ساتھ مشرق زمین کے سامنے ناز کرتا ہے، اُسی طرح ہمارے وطن (ایران) کو بھی زیب دیتا ہے کہ وہ خود پر ناز کرے اور چمنِ معنی میں سرو کی طرح سر بلند کرے۔ کیونکہ جب اقبال نے سخن کہنا اور اپنے قلب کے گنجینے کو لب کشائی کر کے خالی کرنا چاہا، اُس نے اپنے ہم وطنوں کے بعد ایرانیوں کے سوا کسی کو اِس لائق نہ سمجھا کہ وہ اُن کے ساتھ سخن کا آغاز کرے۔ اُس نے اپنے قیمتی دُر فارسی کے صندوقچے میں ڈالے اور اِس میدان کی وسعت سے اپنی جولانگاہ بنائی۔

شهیر: نامی، مشهور
پرداختن: خالی کرن
وطن‌تاش = هم‌وطن [یہ ترکی لفظ ہے۔]
ثمین = گران‌بها
دُرج = جعبهٔ کوچکی که در آن جواهر و زینت‌آلات می‌گذارند. [وہ صندوقچہ جس میں جواہر و آلاتِ زینت رکھتے ہیں۔]

ماخذ:
گزینهٔ اشعار و مقالاتِ علامه دهخدا
انتخاب و شرح: دکتر حسن احمد گیوی
چاپِ اول: ۱۳۷۲هش/۱۹۹۳ء

Advertisements

کاش میری مادری زبان اور میرے ملک کی قومی زبان فارسی ہوتی!

مجھے اس چیز کی شدید حسرت رہتی ہے کہ کاش میری مادری زبان اور میرے ملک پاکستان کی قومی زبان فارسی ہوتی تاکہ نہ تو میرا اور میرے ہم وطنوں کا رشتہ ہزار سالہ عظیم الشان فارسی تمدن اور اپنے اسلاف کے ثقافتی سلسلے سے منقطع ہوتا اور نہ ہم اس نفیس و حسین و جمیل زبان کے ثمرات سے محروم رہتے۔ علاوہ بریں، اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان، تاجکستان اور ایران سے ہمارا معنوی و مادی تعلق بھی مزید استوار ہوتا۔

=========

[فارسی زبان میری اصل ہے]

مولانا جلال الدین رومی کا مشہور شعر ہے:
هر کسی کو دور ماند از اصلِ خویش
باز جوید روزگارِ وصلِ خویش
یعنی ہر وہ شخص جو اپنی اصل اور سرچشمے سے دور ہو جائے، وہ دوبارہ اپنے زمانۂ وصل تک رسائی حاصل کرنے کی تلاش، اشتیاق اور تگ و دو میں رہتا ہے۔
مولویِ روم کے شعر کی روشنی میں دیکھا جائے تو اپنی اصل سے جدائی کا شدید احساس ہی میرے فارسی زبان سے والہانہ عشق کا قوی موجب ہے۔ فارسی زبان میری اصل ہے جس سے مجھے زمانے کے جبر نے جدا کر دیا ہے اور اب میں اپنی اصل سے وصل کی تمنا میں بے تاب ہوں۔


تاجکوں اور پاکستانیوں کے ثقافتی تعلقات – امام علی رحمان

صدرِ تاجکستان امام علی رحمان کی جامعۂ قائدِ اعظم، اسلام آباد میں ۱۲ نومبر، ۲۰۱۵ء کے روز کی گئی تقریر سے ایک اقتباس:
"مناسبت‌های نیک و سازندهٔ تاجیکان و پاکستانیان از گذشتهٔ دُورِ تاریخ منشاء می‌گیرند. در عصرهای میانه مردمانِ ما را رابطه‌های گوناگون‌عرصه، به خصوص فرهنگِ مشترک و ادبیاتِ مشترک با یکدیگر پیوند می‌دادند. ریشه‌های مشترکِ فرهنگی و تاریخی و نزدیکیِ زبان‌های فارسی و اردو برای مردمانِ ما امکان می‌دهند از ارزش‌های فرهنگیِ همدیگر بهره‌مند باشند.”
ترجمہ: "تاجکوں اور پاکستانیوں کے خوب اور سودمند تعلقات تاریخ کے بعید زمانوں سے شروع ہوتے ہیں۔ قرونِ وسطیٰ میں ہمارے لوگوں کو کثیر جہتی رابطوں، بالخصوص مشترک ثقافت اور مشترک ادبیات نے ایک دوسرے سے پیوستہ رکھا تھا۔ مشترک ثقافتی و تاریخی بنیادیں اور فارسی اور اردو زبانوں کی نزدیکی ہمارے لوگوں کے لیے یہ ممکن بناتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی ثقافتی اقدار سے بہرہ مند ہو سکیں۔”
ماخذ


مشہد میں امیر علی شیر نوائی کی یاد میں شبِ شعر کا انعقاد

مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں ہفتے کی رات کو تیموری دور کے خراسانی شاعر اور ممتاز دانشمند امیر علی شیر نوائی کی یاد میں ‘ہم صدا با آفتاب’ نامی شبِ شعر خوانی کا انعقاد ہوا۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کے ایام میں منعقد ہونے والی اس شبِ شعر خوانی میں تاجکستان، پاکستان، ہندوستان، افغانستان اور ایران کے شاعروں نے شرکت کی۔
اس یادگاری نشست میں پاکستان کے اردو گو شاعر پروفیسر افتخار حسین عارف نے حضرتِ رسول (ص) کے وصف میں کہے گئے اپنے شعر پڑھے۔
اس کے بعد، کشورِ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے شعراء ڈاکٹر سید تقی عباسی، ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری اور ڈاکٹر عزیز مہدی نے بھی اپنے اشعار کی قرائت کی۔
اس شبِ شعر میں شعر گوئی کرنے والے دوسرے شاعروں میں کشورِ تاجکستان کے منصور خواجہ اف اور رستم آی محمد اف، اور ایران میں افغانستان کے ثقافتی سفیر محمد افسر رہ بین بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ ایران کے کچھ مشہور شاعروں جیسے علی رضا قزوہ، محمد جواد شاہ مرادی تہرانی، امیر برزگر، محمد رضا سرسالاری، محسن فدائی، مہدی آخرتی اور ایمان بخشائشی نے اس یادگاری شبِ شعر میں شرکت کی اور حاضرین کے سامنے اپنے اشعار پڑھے۔
پہلے بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا انعقاد مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کی کوششوں اور دیگر چوبیس مؤسسوں کے تعاون سے ہوا ہے اور یہ سات سے نو فروری تک دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں جاری رہے گا۔
۸۴۴ ہجری میں شہرِ ہرات میں متولد ہونے والے امیر علی شیر نوائی شاعر، دانشمند اور سلطان حسین بایقرا گورکانی کے وزیر تھے۔
فارسی اور ترکی دونوں زبانوں میں اُن کے بہت سارے اشعار موجود ہیں، اسی وجہ سے اُن کو ‘ذواللسانین’ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
اُن کا انتقال ۹۰۶ ہجری کو ہرات میں ہوا تھا اور وہ سلطان شاہ رخ تیموری کی بیوی گوہرشاد بیگم کی آرامگاہ کے جوار میں واقع اور اپنے ہی ہاتھوں ساختہ ‘اخلاصیہ’ میں دفنائے گئے۔

خبر کا ماخذ
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء