محمد فضولی بغدادی کا ذکر بالآخر ایک پاکستانی اردو اخبار میں

جب میں نے انٹرنیٹ پر فارسی و تُرکی ادبیات کی تبلیغ شروع نہیں کی تھی، اُس وقت تک پاکستان میں محمد فضولی بغدادی بالکل گُمنام شاعر تھے، حالانکہ وہ قومِ اتراک کے ایک عظیم ترین شاعر ہیں، اور اُن کا آذربائجان و تُرکیہ میں (نیز، تُرکستان اور عراقی و شامی تُرکوں میں بھی) وہی رُتبہ ہے جو فارسی گویوں میں جنابِ حافظ شیرازی کا ہے، یعنی تُرکی سرا شاعروں میں وہ معروف ترین ہیں، اور کلاسیکی تُرکی شاعری کا ہر قاری اُن کی شاعری سے آگاہی رکھتا ہے، اور اُن کی کئی ابیات اکثر تُرکی گویوں کو ازبر ہیں۔ علاوہ بریں، اُن کی فارسی شاعری بھی فصاحت و بلاغت اور شعری استعداد کے لِحاظ سے فُصَحائے عجم کی شاعری سے کم تر نہیں ہے۔ اِن چیزوں کے مدِّ نظر، میری اوّل روز سے کوشش رہی ہے کہ میں پاکستان میں جنابِ محمد فضولی بغدادی کے نام و آثار کی ترویج کرتا رہوں اور اِس مقصد کے لیے میں اُن کے فارسی و تُرکی اشعار کے ترجمے کرتا آیا ہوں۔ ارادہ تو یہ ہے کہ اگر مشیتِ الہٰی اجازت دے، اور مجھے فُرصت و موقع ملے، تو میں اُن کے کُل فارسی و تُرکی دواوین کا ترجمہ کروں گا۔ لیکن میں اِس وقت تک بھی اُن کی پانچ سو کے قریب فارسی و تُرکی ابیات کا ترجمہ کر چکا ہوں، اور یہ سلسلہ جاری ہے۔ یہ دیکھنا میرے لیے باعثِ شادمانی ہے کہ انٹرنیٹ پر پاکستانیوں میں محمد فضولی بغدادی سے آشنائی کا آغاز ہو گیا ہے، اور اِمروز کئی مُحِبّانِ شعرِ فارسی اُن کے نام سے واقف ہیں، اور اُن کی شاعری سے محظوظ ہوتے ہیں۔ محمد فضولی بغدادی میرے پسندیدہ ترین تُرکی ادیب ہیں، اِس لیے مردُم کو اُن سے مُتعارف کرانا اپنی ادبی ذمّہ داری سمجھتا ہوں۔

اِمروز، بروزِ جمُعہ، سید شاہ زمان شمسی کی ایک تحریر «محسوسات و کیفیت کیا ہے؟» کے نام سے ایک اردو اخبار «وائس آف پاکستان» [ایک اردو اخبار کا نام انگریزی میں!] میں شائع ہوئی، جس میں اُنہوں نے فارسی نعتیہ شاعری پر چند کلمات لِکھے ہیں۔ یہ جان کر خوشی ہوئی کہ اُس میں محمد فضولی بغدادی کی بھی نعتیہ ابیات، اُن کے نام کے ذکر کے ساتھ اور میرے ترجمے کی معیت میں، درج تھیں۔ میں جانتا ہوں کہ، بے شک، یہ اردو تحریر محض چند انگُشت شُمار قاریوں کی نگاہوں ہی سے گُذری ہو گی، لیکن کیا یہ مُوَفّقیت و کامیابی کم ہے کہ فضولی بغدادی کا نام بالآخر ایک اردو اخبار کی بھی زینت بن گیا؟ ہرگز نہیں!

آرزو ہے کہ ایک روز جنابِ فضولی کا نام اِس مُلک بھی اُسی طرح شُہرت سے ہمکنار ہو گا جس طرح مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا کے دیگر دیاروں میں مشہور و معروف ہے۔

سید شاہ زمان شمسی کی تحریر کا ربط
اخباری صفحے کا ربط

پس نوشت: یہی تحریر «صحافت»، «ہجوم»، اور «طالبِ نظر» میں بھی شائع ہوئی تھی۔

Advertisements

تُرکِیَوی ادیب «علی نِہاد تارلان» کے ساتھ لاہور میں پیش آیا ایک دلچسپ واقعہ

"«اقبال اکادمی» کی جانب سے عظیم مُتفکّر [علّامہ اقبال] کے نام پر منعقد کردہ یادگاری جلسہ اختتام ہو گیا تھا۔ روزِ فردا پاکستان کے صدر نے شرفِ ملاقات بخشا۔ جنابِ صدر نے پوچھا کہ کیا میں لاہور – جہاں پر اقبال کا مقبرہ ہے – جا چکا ہوں یا نہیں۔ میں نے کہا کہ "موسم بِسیار گرم ہے، میں جسارت نہیں کر پاتا۔” ظاہراً دو روز قبل وہاں زوردار بارشیں ہو چکیں تھیں، اور لاہور کا موسم مُعتدل ہو گیا تھا۔ اُس شب قصرِ صدارت کی طرف سے اقبال اکادمی کو اِس صورتِ حال کی اطلاع دی گئی، اور مجھ کو لاہور لے جانے کا امر فرمایا گیا۔ میں نے بھی اس موقع کو گنوانا نہ چاہا۔ روزِ فردا میری رفاقت کرنے والے محترم ادیب و شاعر ڈاکٹر عبدالحمید عرفانی کے ساتھ میں لاہور چلا گیا۔ دانشگاہِ پنجاب کے شُعبۂ زبان و ادبیاتِ فارسی کے رئیس پروفیسر محمد باقر نے ہمارا استقبال کیا۔ میں لاہور کے ایک کبیر و مُحتشَم مُسافرخانے میں ٹھہرا۔ میں اِس قدر پُرجوش، اور «اقبال» سے اِس قدر پُر تھا کہ کیا بتاؤں!
شب کے وقت میں نے اقبال کے بارے میں مثنویِ [رُومی] کے وزن میں «قونیۂ ثانی» عنوان کے ساتھ ایک نظم لِکھی۔ میں شب کو سو نہ سکا۔ صُبح کے وقت عبدالحمید عرفانی اور محمد باقر مُسافرخانے میں آئے۔ میں نے جوش و ہیجان کے ساتھ اُن کو نظم سُنانا چاہی۔ ہنوز میں نے بیتِ اوّل ہی سُنائی تھی کہ وہ دونوں یک دہن ہو کر «واه واه» کہنے لگے۔
میں نے اِس چیز کو اِس طرح فہم کیا:
"یہ شخص ایک تُرک ہے۔ اِس کو خوش گُمانی ہے کہ اِس نے فارسی شاعری لِکھی ہے۔ افسوس! افسوس!۔۔” لیکن میں نے اپنی شعرخوانی کو روکا نہیں، جاری رکھا۔ چند ابیات پر وہ اِس «واه واه» کی تکرار کرتے رہے۔ رفتہ رفتہ میری آواز تنگ و خفیف ہو گئی۔ میری رُوحیات مُضطرب ہو گئیں۔ ناراحتی کے باعث میں عرَق میں غرق ہو گیا۔ بالآخر نظم ختم ہو گئی۔ محمد باقر نے عبدالحمید عرفانی سے کہا: "الامان!! ہم اِس کو لاہور کے جریدوں میں شائع کریں گے۔ خارق العادت شاعری ہے!” اور مجھ سے کہا: "اِس نظم کو اپنی دست خطی سے لکھ دیجیے۔ تاکہ ہم دانشگاہ کے مجموعے میں اُس کی تصویری نقل چھاپیں۔” سوچیے میری حالت کو!۔۔۔ بعد میں مَیں سمجھا کہ یہ «واه، واه» بِسیار زیبا، آفرین کے معنی میں استعمال ہو رہا تھا۔ اُس روز ہم نے مزارِ اقبال کی زیارت کی۔ ہمارے پہلو میں وہاں کے چند شُعَراء بھی موجود تھے۔ مزار میں مجھ سے نظم خوانوائی (پڑھوائی) گئی۔ بعد ازاں، پاکستان کے بُزُرگ ترین ادبی مجموعے «ہِلال» نے بھی شائع کی۔
زندگی کی طرح طرح کی تجلّیاں ہیں۔ کون کہتا کہ سالوں بعد مَیں مزارِ مولانا رُومی کے احاطے میں «اقبال» اور «نفْعی» کے نام پر ایک ایک دفتر کی تأسیس کے لیے مِلّی وزارتِ تعلیم سے رجوع کروں گا اور یہ پیش نِہاد (تجویز) قبول ہو جانے کے بعد وہ دفاتر فعالیّت کا آغاز کر دیں گے۔۔۔ اور قونیہ بھی لاہورِ ثانی ہو جائے گا۔۔۔”
(تُرکی سے ترجمہ شدہ)

× تُرکی زبان میں «واه!» افسوس ظاہر کرنے کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
× «نفْعی» = دیارِ آلِ عُثمان کے ایک مشہور شاعر کا تخلُّص

مترجم: حسّان خان
مأخذ: علی نِهاد تارلا‌ن (حیاتې، شخصیتی، و اثرلری)، یوسف ضیا اینان، استانبول، ۱۹۶۵ء

————

صدرِ پاکستان کی جانب سے علی نہاد تارلان کو دیا گیا «ستارۂ امتیاز» اُن کے سُپُرد کرتے وقت پاکستان کے سفیرِ اعلیٰ جناب س. م. حسن نے یہ فرمایا تھا:

"پروفیسر ڈاکٹر علی نہاد تارلان تُرکیہ کے مُمتاز ترین کلاسیکی عالموں میں سے ایک ہیں۔ وہ چالیس سالوں سے تُرکی و فارسی زبانیں سِکھا رہے اور رُبع صدی سے دانشگاہِ استانبول میں کلاسیکی تُرکی ادبیات کی کُرسیِ اُستادی پر مشغول ہیں۔ وہ فقط ایران اور پاکستان میں نہیں، بلکہ مغربی مُستشرقین کے درمیان بھی فارسی ادبیات میں صاحبِ صلاحیت کے طور پر معروف ہیں۔ اِس کے علاوہ، پروفیسر تارلان «اقبال» کے موضوع پر تُرکیہ میں اہم ترین مُتخصِّص ہونے کے ساتھ ساتھ، یہاں پاکستان کے مِلّی شاعر کو مُتعارف کرانے کے لیے سب سے زیادہ کوششیں کرنے والے شخص ہیں۔ اقبال کی تصنیفوں «پیامِ مشرق» اور «اسرار و رُموز» کا ترجمہ کرنے کے ذریعے سے اُنہوں نے پاکستان کے اِس عظیم شاعر کا پیغام ہم وطنوں کو سُنایا اور تشریح کیا ہے۔ پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان معنوی و ثقافتی رابطوں کو قوی تر کرنے کے لیے اُن کی خِدمات کے پیشِ نظر وہ ۱۹۵۷ء میں اقبال اکادمی کی جانب سے کراچی میں منعقد ہونے والے سالانہ جلسۂ اقبال کی صدارت کرنے کے لیے پاکستان مدعو ہوئے تھے۔
"پروفیسر علی نہاد تارلان کی، پاکستان کے مِلّی شاعر کو برادر تُرک مِلّت سے مُتعارف کرانے کی خاطر کی جانے والی کوششوں کی قدردانی میں پاکستان کے صدرِ مملکت نے کو اُن کو «ستارۂ امتیاز» سے نوازنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اپنی قابلیتوں میں تمایُز دِکھانے والے عالِموں کو دیے جانے والا یہ نشان پروفیسر علی نہاد تارلان کو دینے سے مَیں بِسیار شادمانی محسوس کر رہا ہوں۔ یہ نشان، باہمی تاریخی و روایتی دوستی کے رابطے رکھنے والے مُلکوں تُرکیہ اور پاکستان کو یک دیگر کے مزید نزدیک قریب لانے کی راہ میں کوششیں کرنے والے تُرک دانشوَروں کو ہمارا احترام پیش کرنے کا بھی ایک وسیلہ ہے۔”
(تُرکی سے ترجمہ شدہ)

مترجم: حسّان خان
مأخذ: علی نِهاد تارلا‌ن (حیاتې، شخصیتی، و اثرلری)، یوسف ضیا اینان، استانبول، ۱۹۶۵ء

————

جس طرح ایران پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان جغرافیائی پُل ہے، اُسی طرح زبانِ فارسی کو بھی پاکستان اور تُرکیہ کے درمیان حلقۂ واصِل کہا جا سکتا ہے۔ تُرکِیہ کے ادبیات شِناسوں کی ایک کثیر تعداد فارسی زبان جانتی ہے، کیونکہ فارسی کے علم کے بغیر کلاسیکی و عُثمانی تُرکی ادبیات کا مُطالعہ قریباً ناممکن ہے۔ فارسی پاکستان اور تُرکیہ ہر دو مُلکوں کی کلاسیکی ادبی زبان ہے۔


اقبال – علی اکبر دهخدا

اقبال

در روز اول اردیبهشت ماه/ ۱۳۳۰ در مجلس جشنی که به عنوان بزرگداشت اقبال لاهوری شاعر و اندیشه‌ور نامی پاکستان در سفارت آن کشور تشکیل شده بود، هیأت فرهنگی پاکستان رباعی زیر را به حضور دهخدا تقدیم می‌دارد:
"صد شکر که یارِ آشنا را دیدیم / سرحلقهٔ زمرهٔ وفا را دیدیم – سرمستِ تجلّیِ الاهی گشتیم / آن روز که رویِ دهخدا را دیدیم.”
و استاد نیز مرتجلاً قطعهٔ زیر را می‌سراید و عرضه می‌دارد:
زان گونه که پاکستان با نابغهٔ دوران
اقبالِ شهیرِ خویش بر شرق همی‌نازد،
زیبد وطنِ ما نیز، بر خویش همی‌بالد
واندر چمنِ معنی، چون سرو سرافرازد
زان روی که چون اقبال خواهد که سخن گوید
گنجینهٔ قلبِ خود با گفته بپردازد
از بعدِ وطن‌تاشان، کس را بجز ایرانی
شایسته نبیند تا، با وی سخن آغازد
دُرهایِ ثمینِ خود در دُرجِ دری ریزد
از پهنهٔ این میدان جولان‌گهِ خود سازد

ترجمہ:
۲۲ اپریل ۱۹۵۱ء کے روز پاکستانی سفارت خانے میں پاکستان کے مشہور شاعر اور مفکر اقبال لاہوری کی یاد میں منعقد ہونے والی مجلسِ جشن میں پاکستانی ثقافتی دستے نے دہخدا کے حضور میں یہ رباعی پڑھی:
صد شکر کہ ہم نے یارِ آشنا کو دیکھا؛ سرحلقۂ زمرۂ وفا کو دیکھا؛ ہم تجلیِ الٰہی سے سرمست ہو گئے؛ جس روز کہ ہم نے چہرۂ دہخدا کو دیکھا۔”
استاد دہخدا نے بھی فی البدیہہ مندرجۂ ذیل قطعہ کہا اور پیش کیا:
جس طرح پاکستان نابغۂ دوران یعنی اپنے مشہور و نامدار اقبال کے ساتھ مشرق زمین کے سامنے ناز کرتا ہے، اُسی طرح ہمارے وطن (ایران) کو بھی زیب دیتا ہے کہ وہ خود پر ناز کرے اور چمنِ معنی میں سرو کی طرح سر بلند کرے۔ کیونکہ جب اقبال نے سخن کہنا اور اپنے قلب کے گنجینے کو لب کشائی کر کے خالی کرنا چاہا، اُس نے اپنے ہم وطنوں کے بعد ایرانیوں کے سوا کسی کو اِس لائق نہ سمجھا کہ وہ اُن کے ساتھ سخن کا آغاز کرے۔ اُس نے اپنے قیمتی دُر فارسی کے صندوقچے میں ڈالے اور اِس میدان کی وسعت سے اپنی جولانگاہ بنائی۔

شهیر: نامی، مشهور
پرداختن: خالی کرن
وطن‌تاش = هم‌وطن [یہ ترکی لفظ ہے۔]
ثمین = گران‌بها
دُرج = جعبهٔ کوچکی که در آن جواهر و زینت‌آلات می‌گذارند. [وہ صندوقچہ جس میں جواہر و آلاتِ زینت رکھتے ہیں۔]

ماخذ:
گزینهٔ اشعار و مقالاتِ علامه دهخدا
انتخاب و شرح: دکتر حسن احمد گیوی
چاپِ اول: ۱۳۷۲هش/۱۹۹۳ء


کاش میری مادری زبان اور میرے ملک کی قومی زبان فارسی ہوتی!

مجھے اس چیز کی شدید حسرت رہتی ہے کہ کاش میری مادری زبان اور میرے ملک پاکستان کی قومی زبان فارسی ہوتی تاکہ نہ تو میرا اور میرے ہم وطنوں کا رشتہ ہزار سالہ عظیم الشان فارسی تمدن اور اپنے اسلاف کے ثقافتی سلسلے سے منقطع ہوتا اور نہ ہم اس نفیس و حسین و جمیل زبان کے ثمرات سے محروم رہتے۔ علاوہ بریں، اپنے ہمسایہ ممالک افغانستان، تاجکستان اور ایران سے ہمارا معنوی و مادی تعلق بھی مزید استوار ہوتا۔

=========

[فارسی زبان میری اصل ہے]

مولانا جلال الدین رومی کا مشہور شعر ہے:
هر کسی کو دور ماند از اصلِ خویش
باز جوید روزگارِ وصلِ خویش
یعنی ہر وہ شخص جو اپنی اصل اور سرچشمے سے دور ہو جائے، وہ دوبارہ اپنے زمانۂ وصل تک رسائی حاصل کرنے کی تلاش، اشتیاق اور تگ و دو میں رہتا ہے۔
مولویِ روم کے شعر کی روشنی میں دیکھا جائے تو اپنی اصل سے جدائی کا شدید احساس ہی میرے فارسی زبان سے والہانہ عشق کا قوی موجب ہے۔ فارسی زبان میری اصل ہے جس سے مجھے زمانے کے جبر نے جدا کر دیا ہے اور اب میں اپنی اصل سے وصل کی تمنا میں بے تاب ہوں۔


تاجکوں اور پاکستانیوں کے ثقافتی تعلقات – امام علی رحمان

صدرِ تاجکستان امام علی رحمان کی جامعۂ قائدِ اعظم، اسلام آباد میں ۱۲ نومبر، ۲۰۱۵ء کے روز کی گئی تقریر سے ایک اقتباس:
"مناسبت‌های نیک و سازندهٔ تاجیکان و پاکستانیان از گذشتهٔ دُورِ تاریخ منشاء می‌گیرند. در عصرهای میانه مردمانِ ما را رابطه‌های گوناگون‌عرصه، به خصوص فرهنگِ مشترک و ادبیاتِ مشترک با یکدیگر پیوند می‌دادند. ریشه‌های مشترکِ فرهنگی و تاریخی و نزدیکیِ زبان‌های فارسی و اردو برای مردمانِ ما امکان می‌دهند از ارزش‌های فرهنگیِ همدیگر بهره‌مند باشند.”
ترجمہ: "تاجکوں اور پاکستانیوں کے خوب اور سودمند تعلقات تاریخ کے بعید زمانوں سے شروع ہوتے ہیں۔ قرونِ وسطیٰ میں ہمارے لوگوں کو کثیر جہتی رابطوں، بالخصوص مشترک ثقافت اور مشترک ادبیات نے ایک دوسرے سے پیوستہ رکھا تھا۔ مشترک ثقافتی و تاریخی بنیادیں اور فارسی اور اردو زبانوں کی نزدیکی ہمارے لوگوں کے لیے یہ ممکن بناتی ہیں کہ وہ ایک دوسرے کی ثقافتی اقدار سے بہرہ مند ہو سکیں۔”
ماخذ


مشہد میں امیر علی شیر نوائی کی یاد میں شبِ شعر کا انعقاد

مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں ہفتے کی رات کو تیموری دور کے خراسانی شاعر اور ممتاز دانشمند امیر علی شیر نوائی کی یاد میں ‘ہم صدا با آفتاب’ نامی شبِ شعر خوانی کا انعقاد ہوا۔
بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کے ایام میں منعقد ہونے والی اس شبِ شعر خوانی میں تاجکستان، پاکستان، ہندوستان، افغانستان اور ایران کے شاعروں نے شرکت کی۔
اس یادگاری نشست میں پاکستان کے اردو گو شاعر پروفیسر افتخار حسین عارف نے حضرتِ رسول (ص) کے وصف میں کہے گئے اپنے شعر پڑھے۔
اس کے بعد، کشورِ ہندوستان سے تعلق رکھنے والے شعراء ڈاکٹر سید تقی عباسی، ڈاکٹر اخلاق احمد انصاری اور ڈاکٹر عزیز مہدی نے بھی اپنے اشعار کی قرائت کی۔
اس شبِ شعر میں شعر گوئی کرنے والے دوسرے شاعروں میں کشورِ تاجکستان کے منصور خواجہ اف اور رستم آی محمد اف، اور ایران میں افغانستان کے ثقافتی سفیر محمد افسر رہ بین بھی شامل تھے۔
اس کے علاوہ ایران کے کچھ مشہور شاعروں جیسے علی رضا قزوہ، محمد جواد شاہ مرادی تہرانی، امیر برزگر، محمد رضا سرسالاری، محسن فدائی، مہدی آخرتی اور ایمان بخشائشی نے اس یادگاری شبِ شعر میں شرکت کی اور حاضرین کے سامنے اپنے اشعار پڑھے۔
پہلے بین الاقوامی امیر علی شیر نوائی مؤتمر کا انعقاد مشہد کی دانشگاہِ فردوسی کی کوششوں اور دیگر چوبیس مؤسسوں کے تعاون سے ہوا ہے اور یہ سات سے نو فروری تک دانشگاہِ فردوسی کے شعبۂ ادبیات میں جاری رہے گا۔
۸۴۴ ہجری میں شہرِ ہرات میں متولد ہونے والے امیر علی شیر نوائی شاعر، دانشمند اور سلطان حسین بایقرا گورکانی کے وزیر تھے۔
فارسی اور ترکی دونوں زبانوں میں اُن کے بہت سارے اشعار موجود ہیں، اسی وجہ سے اُن کو ‘ذواللسانین’ کے لقب سے یاد کیا جاتا ہے۔
اُن کا انتقال ۹۰۶ ہجری کو ہرات میں ہوا تھا اور وہ سلطان شاہ رخ تیموری کی بیوی گوہرشاد بیگم کی آرامگاہ کے جوار میں واقع اور اپنے ہی ہاتھوں ساختہ ‘اخلاصیہ’ میں دفنائے گئے۔

خبر کا ماخذ
تاریخ: ۷ فروری ۲۰۱۵ء