گفتم مَلَکی یا بشری؟ گفت که هر دو – کمال خُجندی (فارسی + اردو ترجمہ)

گفتم مَلَکی یا بشری؟ گفت که هر دو
کانِ نمکی یا شَکَری؟ گفت که هر دو
گفتم به لطافت گُلی ای سروِ قباپوش
یا نَی‌شَکَری در کمری؟ گفت که هر دو ×
گفتم به خطِ سبز و لبِ لعلِ روان‌بخش
آبِ خضری یا خضری؟ گفت که هر دو
گفتم به جبینی که به آن روی توان دید
یا آیینه‌ای یا قمری؟ گفت که هر دو
گفتم که به یک عشوه ربایی ز سرم عقل
یا هوشِ من از تن ببری؟ گفت که هر دو ×
گفتم دلِ مایی که ندانیم کجایی
یا دیدهٔ اهلِ نظری؟ گفت که هر دو
گفتم ز کمالی تو چنین بی‌خبر و بس
یا خود ز جهان بی‌خبری؟ گفت که هر دو
(کمال خُجندی)

ترجمہ:
میں نے کہا: تم فرشتہ ہو یا بشر ہو؟ اُس نے کہا کہ: دونوں۔ میں نے کہا: تم کانِ نمک ہو یا شَکَر ہو؟ اُس نے کہا کہ: دونوں۔
میں نے کہا: اے سروِ قباپوش! تم لطافت میں گُل ہو یا میانۂ کوہ میں [اُگنے والے] کوئی نَیشَکَر ہو؟ اُس نے کہا کہ: دونوں۔ ×
میں نے کہا: خطِ سبز اور جاں بخش لبِ لعل کے ساتھ تم آبِ خضر ہو یا خضر ہو؟ اُس نے کہا کہ: دونوں۔ ×
میں نے کہا: اُس جبیں کے ساتھ کہ جس میں چہرہ دیکھا جا سکتا ہے، تم آئینہ ہو یا قمر ہو؟ اُس نے کہا کہ: دونوں۔
میں نے کہا کہ: [اپنے] اِک ناز و عشوہ سے تم میرے سر سے عقل ہتھیاؤ گے، یا تن سے میری جان لے جاؤ گے؟ اُس نے کہا کہ: دونوں۔
میں نے کہا: کیا تم ہمارا دل ہو کہ ہم نہیں جانتے تم کہاں ہو؟ یا پھر تم دیدۂ اہلِ نظر ہو؟ اُس نے کہا کہ: دونوں۔
میں نے کہا: کیا تم صرف کمال سے اِس طرح بے خبر ہو؟ یا خود دنیا ہی سے بے خبر ہو؟ اُس نے کہا کہ: دونوں۔

× بیتِ ثانی میں ‘یا نَی‌شَکَری در کمری؟’ کی بجائے ‘یا نَی‌شکری یا گُهَری؟’ بھی ملتا ہے، لیکن میں نے ثانی الذکر نسخہ بدل کو اِس لیے ترجیح نہیں دی کیونکہ اِس سے پوچھی جانے والی چیزوں کی تعداد تین ہو جاتی ہے۔
× نَیشَکَر = گنّا
× آبِ خضر = آبِ حیات
× قدیم فارسی میں لفظِ ‘هوش’، ‘جان و روح’ کے معنوں میں بھی استعمال ہوا ہے۔

Advertisements

امیر علی شیر نوائی پر ادبیاتِ فارسی کا اثر

"وسطی ایشیائی ترکی گویوں کے ادبیات کی عظیم شخصیات میں ایک چہرۂ دیگر امیر علی شیر نوائی کا ہے، کہ جو دیوانِ ترکی کے علاوہ ایک دیوان فارسی زبان میں بھی رکھتے ہیں جس میں اُن کا تخلص ‘فانی’ ہے۔ یہ معروف شاعر، قرنِ نہمِ ہجری کے بزرگ ترین اور عالم ترین فارسی گو شاعر نورالدین عبدالرحمٰن جامی کے ہم عصر تھے اور ملا جامی کی شاگردی پر فخر کرتے تھے۔ نیز، انہوں ہی نے جامی کی شرحِ حال میں ‘خمسۃ المتحیرین’ کے نام سے ایک کتاب چغتائی ترکی میں تحریر کی تھی۔
اگر ہم نوائی کی تالیفات پر از روئے انصاف نظر ڈالیں، تو ہم دیکھیں گے کہ انہوں نے ترکی زبان میں اپنے عصر کی اُن تمام ادبی اصناف میں سخن آفرینی کی ہے جو ادبیاتِ فارسی میں رائج رہی ہیں اور اس سلسلے میں وہ وافر کمالات حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں۔ وہ مثنوی ‘حیرت الابرار’ میں کہتے ہیں:
اُول صفا اهلی پاک فرجامی
پاک فرجام و پاکفر جامی
اُول یقین ساری دستگیر منگا
قبله و اوستاد و پیر منگا
نوائی کے جو اشعار ہم نے پیش کیے ہیں اُن سے ظاہر ہے کہ وہ عبدالرحمٰن جامی کے احترام کے کس حد تک قائل تھے۔ وہ ان اشعار میں جامی کو اپنا استاد، پیر اور قبلہ پکار کر اُن کی عظمت میں رطب اللسان ہیں۔ قابلِ ذکر ہے کہ اس کے مقابل میں مولانا جامی نیز اُن سے کامل محبت رکھتے تھے اور در حقیقت ان دو بزرگوں کے مابین رابطہ، شمس تبریزی اور مولانا جلال الدین محمد بلخی رومی کے باہمی ارتباط کی طرح تھا۔ اگر کوئی تفاوت تھا تو وہ یہ تھا کہ شمس اور مولانا رومی دونوں ایرانی تھے جبکہ نوائی اور جامی میں سے اول الذکر ترک اور ثانی الذکر تاجک تھے۔
علی شیر نوائی کی تالیفات پر جامی کی تصنیفات، اور بالعموم فارسی ادبیات کے اثر کے موضوع پر بہت کچھ کہا جا سکتا ہے لیکن میں بطورِ مثال نوائی کے ایک شعر کو لانے اور اُس شعر کے ایک فارسی گو شاعر کے شعر سے موازنہ کرنے ہی پر اکتفا کر رہا ہوں:
عارضین یاپغاچ کؤزیمدین ساچیلور هر لحظه یاش
اؤیله کیم پیدا بؤلور یولدوز، نهان بؤلغاچ قویاش
یہ مندرجہ بالا شعر کمال خجندی کے ایک بیت کے مضمون کی کاملاً تکرار ہے:
تا رخ نپوشد کی شود از دیده اشکِ ما روان
پنهان نگشته آفتاب اختر نمی‌آید برون
(اردو ترجمہ:جب تک وہ اپنا رخ پوشیدہ نہ کر لے اُس وقت تک آنکھ سے ہمارے آنسو کیسے رواں ہو سکتے ہیں؟ جب تک آفتاب پنہاں نہ ہو جائے، اُس وقت تک ستارہ باہر نہیں آتا۔)
اس طرح اس بات کی بھی یاد آوری کرنی چاہیے کہ ‘خمسۂ نوائی’ میں بھی شاعر نے موضوع اور اسلوب دونوں کے لحاظ سے حکیم نظامی گنجوی اور امیر خسرو دہلوی کے ‘خمسوں’ کی پیروی کی ہے۔
نوائی کی تالیفات میں شیخِ اجل سعدی شیرازی کی کتابوں ‘گلستان’ اور ‘بوستان’ کے مضامین کا بھی فراواں استعمال ہوا ہے اور اُن کے جملہ آثار میں لسان الغیب خواجہ حافظ شیرازی کی غزلوں کا اثر بخوبی مشہود ہے۔”

(صَفَر عبداللہ کی کتاب ‘نورِ سخن’ میں شامل مضمون ‘نقشِ ادبیاتِ فارسی در شکل گیریِ ادبیاتِ اقوامِ ترکی زبانِ آسیائے مرکزی’ سے اقتباس اور ترجمہ)