فتح‌نامهٔ ابنِ زیاد برایِ یزید – محمد علی افراشته

(فتح‌نامهٔ ابنِ زیاد برایِ یزید)

(قبلهٔ عالَم سلامت باد)
قبلهٔ عالَم سلامت باد، مطلب شد تمام
شد حُسین ابنِ علی با خاندانش قتلِ عام
کُشته شد در کربلا عباس و عون و جعفرش
تشنه‌لب بر خاک و خون اُفتاد حتّیٰ اصغرش
تا نمانَد در جهان از آلِ پیغمبر نشان
عصرِ عاشورا، زدیم آتش به چادرهایشان
ای یزید آسوده‌خاطر باش، دادیم انتشار
در میانِ مردُمان از اهلِ هر شهر و دیار
کاین جماعت خارجی بودند یکسر مرد و زن
مُنکرِ اسلام، یاغی، ماجراجو، بی‌وطن
حُکمِ قتلِ آلِ پیغمبر، به امضایِ شُرَیح
کار را بسیار آسان کرد فتوایِ شُرَیح
کرد هر کس بر علیهِ پادشاهِ دین قیام
واجب‌القتل است و باید کُشت او را، والسّلام
کس نفهمید این جماعت زادهٔ پیغمبرند
مردُمِ کِشور گمان کردند این‌ها کافرند
بسکه تبلیغات با پُول و طلایِ بی‌حساب
شد، که افکارِ عُمومی شد به نفعِ آن‌جناب
در زمانه پادشاهِ دین کسی غیر از تو نیست
این که طِبقِ امرِ تو شد کُشته مردِ اجنبی‌ست
گر کسی شد با خبر از کار و از کردارِ ما
خواست بردارَد به عالَم پرده از اسرارِ ما
چند تن مأمور دُنبالِ سرش بِگْذاشتیم
با هزاران حیله او را از میان برداشتیم
در سرِ راهِ تو دیگر نیست مانِع، ای یزید
بعد از این نبْوَد کسی حق را مُدافِع، ای یزید
برق‌آسا، یافت کارِ دُشمنانت خاتِمه
از دمِ شمشیر بِگْذشتند نسلِ فاطمه
پایهٔ تختِ تو مُحکم شد ز آسیبِ زمان
پرچمِ اقبالِ تو بِگْذشت از هفت آسمان
چون نمانْد از نسلِ پیغمبر نشانی بر زمین
پادشاهِ کِشورِ اسلام هستی بعد از این
در عدالت‌پروری پُر شد جهان از نامِ تو
چشمِ ما اکنون بُوَد بر خلعت و انعامِ تو
ما به راهِ دولتِ تو جان‌فشانی کرده‌ایم
دُشمنانت را همه نابود و فانی کرده‌ایم
در اِزایِ این فداکاری و این خدمت به ما
مرحمت کن مال و جاه و منصب و خلعت به ما
تا که در راهِ تو افزون‌تر فداکاری کنیم
بر زمین خونِ هزاران بی‌گُنه جاری کنیم
تا قیامت، تیغِ خون‌افشانِ تو بُرّنده باد
بندهٔ درگاهِ والاجاهِ تو: ابنِ زیاد
(محمد علی افراشته)
مُحرّم، ۱۳۳۰هش/۱۹۵۱ء

ترجمہ:
قبلۂ عالَم سلامت رہیں! قضیہ تمام ہو گیا۔ حُسین ابنِ علی اپنے خاندان کے ہمراہ قتلِ عام ہو گئے۔ کربلا میں اُن کے عبّاس و عَون و جعفر قتل ہو گئے۔ حتّیٰ اُن کا اصغر بھی تشنہ لب خاک و خوں پر غلطاں ہو گیا۔ ہم نے بہ وقتِ عصرِ عاشورا آلِ پیغمبر کے خیموں کو آتش لگا دی تاکہ جہان میں آلِ پیغمبر کا نشان باقی نہ رہے۔ اے یزید، آسودہ خاطر رہو۔ ہم نے ہر شہر و ہر دیار کے مردُموں میں نشر کر دیا کہ اِس گروہ کے جُملہ مرد و زن خارجی، مُنکرِ اسلام، سرکَش، فتنہ جُو اور بے وطن تھے۔ آلِ پیغمبر کا قتل قاضی شُرَیح کے اِمضاء (دستخط) سے ہوا۔ قاضی شُرَیح کے فتوے نے کام کو بِسیار آسان کر دیا۔ جس بھی شخص نے پادشاہِ دیں کے خلاف قِیام کیا، وہ واجب القتل ہے اور اُس کو قتل کر دینا چاہیے، والسّلام!۔ کسی نے فہم نہ کیا کہ یہ گروہ زادۂ پیغمبر ہے۔ مردُمِ مُلک نے گُمان کیا کہ یہ افراد کافر ہیں۔ بے حساب پیسے اور زر کے ساتھ اِتنی زیادہ تبلیغات کی گئیں کہ افکارِ عُمومی عالی جناب (یزید) کے حق میں مُنعَطِف ہو گئے۔ زمانے میں تمہارے بجز کوئی پادشاہِ دیں نہیں ہے۔ جو شخص تمہارے فرمان کے مُطابق قتل ہوا ہے، مردِ اجنَبی ہے۔ اگر کوئی شخص ہمارے کار و عمل سے آگاہ ہوا، یا اگر اُس نے دُنیا کے پیش میں ہمارے اَسرار سے پردہ اُٹھانا چاہا، تو ہم نے چند مأمورین کو اُس کے عقب میں چھوڑ دیا اور ہزاروں حیلوں کے ساتھ اُس کو درمیان سے دُور کر دیا۔ اے یزید، تمہاری راہ میں اب مزید کوئی مانِع و سدّ نہیں ہے۔ اے یزید، اب اِس کے بعد سے کوئی شخص حق کا مُدافِع نہیں ہے۔ تمہارے دُشمنوں کا کام برق کی مانند خاتمہ پا گیا۔ نسلِ فاطمہ کو تہِ تیغ گُذار دیا گیا۔ تمہارے تخت کا پایہ مُحکم ہو گیا اور حالا اُس کو آسیبِ زمانہ سے خطر نہیں ہے۔ تمہاری اقبال مندی کا پرچم ہفت آسمانوں سے بالا گُذر گیا۔ چونکہ زمین پر نسلِ پیغمبر میں سے کوئی نشان باقی نہ رہا تو اب بعد از ایں تم مُلکِ اسلام کے پادشاہ ہو۔ عدالت پروَری میں دُنیا تمہارے نام سے پُر ہو گئی۔ حالا ہماری نظریں تمہاری خلعت و انعام پر ہیں۔ ہم نے تمہاری سلطنت کی راہ میں جاں فِشانی کی ہے۔ ہم نے تمہارے تمام دُشمنوں کو نابود و فانی کر دیا ہے۔ اِس فداکاری و خِدمت کے عِوض میں ہم کو مال و جاہ و منصب و خِلعت عطا کرو۔ تاکہ ہم تمہاری راہ میں مزید فداکاری کریں، اور زمین پر ہزاروں بے گُناہوں کا خُون رواں کریں۔
تمہاری تیغِ خون افشاں تا قیامت بُرّاں رہے!
تمہاری درگاہِ والاجاہ کا بندہ: ابنِ زیاد۔


"البانوی شہر ارگِری کے تمام افراد فارسی خواں ہیں” – عُثمانی سیّاح اولیا چلَبی کا مشاہدہ

میری نظر میں عُثمانی سلطنت کی ایک لائقِ تحسین ترین چیز یہ ہے کہ وہ زبان و ادبیاتِ فارسی کی، بلقان تک کے علاقوں میں سرایت و اشاعت کا باعث بنی تھی۔ سترہویں عیسوی صدی کے عُثمانی سیّاح و سفرنامہ نگار اولیا چلَبی اپنے مشہور سفرنامے ‘سِیاحت‌نامہ’ کی جلدِ ہشتم میں عُثمانی البانیہ کے شہر ارگِری کے مردُم کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

"اکثریّا خلقې اربابِ معارف و شُعَرایِ مؤلّفین‌لردیر. باخُصوص بُکایی و فغانی و نالِشی و سُکوتی و فضایی نام شُعَرالار حالا بو شهرده موجودلاردېر کیم هر بیری بیرر فن‌ده یدِ طُولالارېن عیان ائتمیش‌لردیر، امّا نالِشی پنج‌بیت‌ده و قصیده‌پردازلېق‌ده لانظیردیر.
و اکثریّا خلقې مُحِبِّ خاندان اۏلوپ ‘یا علی’ دئر اۏتورور، ‘یا علی’ دئر قالقار. جُمله فارسی‌خوان اۏلوپ مُحبِّ خاندان اۏلدوق‌لارېندان بیر فرقه‌سې نِهانی‌جه مُعاویه‌یه سبّ ائدۆپ یزیده آشکاره لعنت ائدرلرمیش امّا استماع ائتمه‌دیم.”

ترجمہ:
"شہر کے اکثر مردُم اربابِ معارف اور شُعَرائے مُؤلفّین کے زُمرے سے تعلق رکھتے ہیں۔ بالخصوص بُکائی، فغانی، نالِشی، سُکوتی، اور فضائی تخلُّص والے شُعَراء اِس وقت اِس شہر میں موجود ہیں جن میں سے ہر ایک، ایک ایک فن میں یدِ طُولیٰ عیاں کر چکا ہے، لیکن نالِشی پنج بیت (پنج بیتی غزل) اور قصیدہ پردازی میں بے نظیر ہے۔
اور اُس کے اکثر مردُم مُحبِّ خاندانِ [علی] ہیں، اور وہ ‘یا علی’ کہتے ہوئے اُٹھتے اور ‘یا علی’ کہتے ہوئے بیٹھتے ہیں۔ تمام افراد فارسی خواں ہیں، اور مُحبِّ خاندانِ [علی] ہونے کے باعث ظاہراً اُن میں سے ایک گروہ بطورِ نِہانی مُعاویہ پر سبّ کرتا ہے، اور یزید پر آشکارا لعنت کرتا ہے، لیکن میں نے [خود] نہیں سُنا۔”

لاطینی رسم الخط میں:
Ekseriyyâ halkı erbâb-ı ma‘ârif ve şu‘arâ-yı mü’ellifînlerdir. Bâhusûs Bükâyî ve Figanî ve Nâlişî ve Sükûtî ve Feza‘î nâm şu‘arâlar hâlâ bu şehirde mevcûdlardır kim her [bir]i birer fende yed-i tûlâların ayân etmişlerdir, ammâ Nâlişî penç-beytde ve kasîdeperdâzlıkda lâ-nazîrdir.
Ve ekseriyyâ halkı muhibb-i Hânedân olup “yâ Alî” der oturur, “yâ Alî” der kalkar. Cümle Fârisî-hân olup muhibb-i Hânedân olduklarından bir fırkası nihânîce Mu‘âviye’ye sebb edüp Yezîd’e âşikâre la‘net ederlermiş ammâ istimâ‘ etmedim.